السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: من يلاعن من الأزواج ومن لا يلاعن باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
حدیث نمبر: 15293
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَمَّا ذَكَرَ اللهُ اللِّعَانَ عَلَى الْأَزْوَاجِ مُطْلَقًا كَانَ اللِّعَانُ عَلَى كُلِّ زَوْجٍ جَازَ طَلَاقُهُ وَلَزِمَهُ الْفَرْضُ، وَكَذَلِكَ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ لَزِمَهَا الْفَرْضُ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے شوہروں پر لعان کو مطلق طور پر ذکر کیا تو لعان ہر اس شوہر پر ہوگا جس کی طلاق جائز ہو اور جس پر فرائض لازم ہوں، اور اسی طرح ہر اس بیوی پر ہوگا جس پر فرائض لازم ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَذَكَرَ قِصَّةَ اللِّعَانِ بِطُولِهَا وَفِي آخِرِهَا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ "، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: فَسُمِّيَ اللِّعَانُ يَمِينًا.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے لعان کا لمبا قصہ ذکر کیا، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ ہو چکی ہوتیں تو میں اس عورت سے نپٹتا۔“ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان کا نام قسم بھی ہے۔