السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: من يلاعن من الأزواج ومن لا يلاعن باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
حدیث نمبر: 15304
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ إِنِّي قَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَانْهَهُمْ عَنْ كَذَا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ " أَرْبَعَةٌ لَيْسَ بَيْنَهُمْ مُلَاعَنَةٌ: الْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْعَبْدُ عِنْدَهُ الْحُرَّةُ، وَالْحُرُّ عِنْدَهُ الْأَمَةُ " وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَاطِلٌ، يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ أَحَادِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عتاب بن اسید! میں نے تجھے اہل مکہ کی طرف بھیجا ہے، انہیں فلاں فلاں کام سے منع کرنا۔“ اس نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”چار کے درمیان لعان نہیں ہوتا: 1 یہودیہ مسلم کے نکاح میں ہو، 2 عیسائی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، 3 آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، 4 لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔“