کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ چار ماہ کا گزر جانا ہی طلاق کا عزم ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْأَزْهَرِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَدِّهَا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا " هَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَخَالَفَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ، فَرَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي بَكْرٍ مِنْ قَوْلِهِمَا غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب چار ماہ گزر جائیں گے تو یہ ایک طلاق ہے، لیکن خاوند بیوی کو واپس کرنے کا زیادہ حقدار ہے، جب تک وہ عدت میں ہو۔
محمد بن اسحاق بن یسار نے زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے ان کی مخالفت کی اور اسے زہری سے سعید اور ابوبکر کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک مرفوع نہیں کیا۔
محمد بن اسحاق بن یسار نے زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے ان کی مخالفت کی اور اسے زہری سے سعید اور ابوبکر کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک مرفوع نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَا يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ يُؤْلِي مِنِ امْرَأَتِهِ " أَنَّهَا إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ "، قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَلَى ذَلِكَ كَانَ رَأْيُ ابْنِ شِهَابٍ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الرِّوَايَةِ الْأُولَى.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہما اللہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنی بیوی سے ایلا کرتا ہے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہوگی، لیکن خاوند کو عدت کے ایام میں رجوع کا اختیار ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْإِيلَاءِ، فَمَرَرْتُ بِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: عَمَّا سَأَلْتَهُ؟ فَقُلْتُ: عَنِ الْإِيلَاءِ قَالَ: أَفَلَا أُخْبِرُكَ مَا كَانَ عُثْمَانُ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ؟ كَانَا يَقُولَانِ: " إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایلا کے بارے میں سوال کیا، پھر میں ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کس کے بارے میں پوچھا ہے؟ میں نے کہا: ایلا کے متعلق، تو ابوسلمہ رحمہ اللہ کہنے لگے: کیا میں آپ کو وہ بات نہ بتاؤں جو سیدنا عثمان اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما اس کے بارے میں فرماتے تھے! وہ فرماتے تھے: جب چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے۔
یہ روایت محفوظ نہیں ہے، عطاء خراسانی قوی نہیں ہیں، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مشہور اس کے برخلاف ہے۔
یہ روایت محفوظ نہیں ہے، عطاء خراسانی قوی نہیں ہیں، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مشہور اس کے برخلاف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، َنَا أَبُو بَكْرٍ ⦗٦٢٢⦘ النَّيْسَابُورِيُّ، نا الْمَيْمُونِيُّ قَالَ: ذَكَرْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ حَدِيثَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَا أَدْرِي مَا هُوَ رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُهُ قِيلَ لَهُ: مَنْ رَوَاهُ؟ قَالَ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ عُثْمَانَ يُوقَفُ.
حافظ ثناء اللہ
میمونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے عطاء خراسانی کی وہ حدیث ذکر کی جو ابوسلمہ کے واسطے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے تو اس کے برخلاف منقول ہے۔ ان سے کہا گیا: اسے کس نے روایت کیا ہے؟ فرمایا: حبیب بن ابی ثابت عن طاؤس عن عثمان کہ اسے کھڑا کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَيَخْطُبُهَا فِي عِدَّتِهَا وَلَا يَخْطُبُهَا أَحَدٌ غَيْرُهُ وَالْعِدَّةُ ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس نہ آنے کی قسم کھاتا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے، وہی عدت کے اندر اسے نکاح کا پیغام دے سکتا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا اسے نکاح کا پیغام نہیں دے سکتا اور عدت تین حیض ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا مَا رَوَيْتُ فِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمُرْسَلٌ وَحَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ لَا يُسْنِدُهُ غَيْرُهُ عَلِمْتُهُ يَعْنِي لَا يُوصِلُهُ غَيْرُهُ قَالَ: وَلَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا فَكُنْتُ إِنَّمَا بِقَوْلِهِ اعْتَلَلْتُ أَكَانَ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِقَوْلِهِمْ أَوْ وَاحِدًا وَاثْنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو میں نے اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ مرسل ہے، اور علی بن بذیمہ کی حدیث کو میرے علم کے مطابق ان کے علاوہ کوئی متصل سند سے بیان نہیں کرتا۔ فرماتے ہیں: اور اگر یہ ثابت بھی ہو اور میں صرف انہی کے قول پر اعتماد کروں، تو کیا رسول اللہ ﷺ کے دس سے زائد صحابہ کی بات کو قبول کیا جائے گا یا ایک، دو کی بات کو لیا جائے گا؟
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ " قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي الْإِيلَاءَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: جب چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔ یزید فرماتے ہیں: یہ ایلا کے بارے میں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، نا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ قَالَ: سَمِعْتُ مِقْسَمًا قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " عَزْمُ الطَّلَاقِ انْقِضَاءُ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، وَالْفَيْءُ الْجِمَاعُ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
مقسم فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا قصد چار ماہ گزر جانے کے بعد ہے، جبکہ «فَيْء» کا معنی جماع ہے۔
یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح روایت ہے، اور ان سے اس کے برخلاف بھی منقول ہے۔
یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح روایت ہے، اور ان سے اس کے برخلاف بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي آيَةِ الْإِيلَاءِ قَالَ: " الرَّجُلُ يَحْلِفُ لِامْرَأَتِهِ بِاللهِ لَا يَنْكِحُهَا تَتَرَبَّصُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ هُوَ نَكَحَهَا كَفَّرَ عَنْ يَمِينِهِ بِإِطْعَامِ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، أَوْ كِسْوَتِهِمْ، أَوْ تَحْرِيرِ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ ⦗٦٢٤⦘ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَإِنْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ يَنْكِحَهَا خَيَّرَهُ السُّلْطَانُ إِمَّا أَنْ يُفِيءَ فَيُرَاجِعَ، وَإِمَّا أَنْ يَعْزِمَ فَيُطَلِّقَ، كَمَا قَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایلا کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مرد قسم کھا لیتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہ کریں گے، وہ عورتیں چار ماہ انتظار کریں گی۔ اگر خاوند بیوی سے صحبت کر لے تو اپنی قسم کا کفارہ دے جو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا ہے۔ جو یہ نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں مجامعت سے پہلے تو بادشاہ اس کو اختیار دے گا کہ اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرے یا طلاق کا ارادہ ہے تو طلاق دے، جیسے اللہ کا فرمان ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، نا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، نا أَسْبَاطٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، فِي آيَةِ الْإِيلَاءِ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: " إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَإِنَّهُ يُوقَفُ، فَيُقَالُ لَهُ أَمْسَكْتَ أَوْ طَلَّقْتَ، فَإِنْ أَمْسَكَ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ طَلَّقَ فَهِيَ طَالِقٌ بَائِنَةٌ " وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ " إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ طَالِقٌ بَائِنَةٌ وَهِيَ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي احْتِجَاجِهِمْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قُلْنَا أَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنْتَ تُخَالِفُهُ فِي الْإِيلَاءِ قَالَ: وَمِنْ أَيْنَ.
حافظ ثناء اللہ
اسباط سدی سے ایلا کی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب مرد اپنی بیوی سے ایلا کرتا ہے تو چار ماہ گزر جانے کے بعد اس کو کھڑا کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ”تو نے بیوی کو روکنا ہے یا طلاق دینی ہے؟“ اگر روک لے تو یہ اس کی بیوی ہے، اگر یہ طلاق دے تو طلاق بائنہ ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب چار ماہ گزر جائیں تو اس عورت کو طلاق بائنہ ہے اور یہ عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ ان کے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے دلیل لینے کے بارے میں فرماتے ہیں: ہم نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو آپ خود ایلا میں اختلاف کرتے ہیں، اس نے کہا: وہ کیسے؟
امام شافعی رحمہ اللہ ان کے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے دلیل لینے کے بارے میں فرماتے ہیں: ہم نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو آپ خود ایلا میں اختلاف کرتے ہیں، اس نے کہا: وہ کیسے؟
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُؤْلِي الَّذِي يَحْلِفُ لَا يَقْرَبُ امْرَأَتَهُ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «الْمُؤْلِي» وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے کبھی بھی قریب نہ آنے کی قسم کھاتا ہے۔