❮
❯
حدیث نمبر: 15228
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا مَا رَوَيْتُ فِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمُرْسَلٌ وَحَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ لَا يُسْنِدُهُ غَيْرُهُ عَلِمْتُهُ يَعْنِي لَا يُوصِلُهُ غَيْرُهُ قَالَ: وَلَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا فَكُنْتُ إِنَّمَا بِقَوْلِهِ اعْتَلَلْتُ أَكَانَ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِقَوْلِهِمْ أَوْ وَاحِدًا وَاثْنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو میں نے اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ مرسل ہے، اور علی بن بذیمہ کی حدیث کو میرے علم کے مطابق ان کے علاوہ کوئی متصل سند سے بیان نہیں کرتا۔ فرماتے ہیں: اور اگر یہ ثابت بھی ہو اور میں صرف انہی کے قول پر اعتماد کروں، تو کیا رسول اللہ ﷺ کے دس سے زائد صحابہ کی بات کو قبول کیا جائے گا یا ایک، دو کی بات کو لیا جائے گا؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإيلاء / حدیث: 15228
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»