❮
❯
حدیث نمبر: 15227
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَيَخْطُبُهَا فِي عِدَّتِهَا وَلَا يَخْطُبُهَا أَحَدٌ غَيْرُهُ وَالْعِدَّةُ ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ ".
حافظ ثناء اللہ

مسروق، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس نہ آنے کی قسم کھاتا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے، وہی عدت کے اندر اسے نکاح کا پیغام دے سکتا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا اسے نکاح کا پیغام نہیں دے سکتا اور عدت تین حیض ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإيلاء / حدیث: 15227
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»