حدیث نمبر: 15225
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْإِيلَاءِ، فَمَرَرْتُ بِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: عَمَّا سَأَلْتَهُ؟ فَقُلْتُ: عَنِ الْإِيلَاءِ قَالَ: أَفَلَا أُخْبِرُكَ مَا كَانَ عُثْمَانُ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ؟ كَانَا يَقُولَانِ: " إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایلا کے بارے میں سوال کیا، پھر میں ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کس کے بارے میں پوچھا ہے؟ میں نے کہا: ایلا کے متعلق، تو ابوسلمہ رحمہ اللہ کہنے لگے: کیا میں آپ کو وہ بات نہ بتاؤں جو سیدنا عثمان اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما اس کے بارے میں فرماتے تھے! وہ فرماتے تھے: جب چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإيلاء / حدیث: 15225
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»