کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ایلاء کرنے والے کو چار ماہ کے انتظار کے بعد روکا جائے گا، پس یا تو وہ رجوع کر لے ورنہ طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 15207
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنَ الصَّحَابَةِ أَيْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَقُولُ: " يُوقَفُ الْمُولِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَأَقَلُّ بِضْعَةَ عَشَرَ أَنْ يَكُونُوا ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَهُمْ يَقُولُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے دس سے زائد صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا جو یہ کہتے تھے کہ ایلا کرنے والے کو قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «بِضْعَةَ عَشَرَ» کا کم سے کم مصداق تیرہ ہے اور وہ کہتے ہیں: یہ انصار میں سے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «بِضْعَةَ عَشَرَ» کا کم سے کم مصداق تیرہ ہے اور وہ کہتے ہیں: یہ انصار میں سے تھے۔
حدیث نمبر: 15208
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي الْأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلًى لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِيلَاءُ لَا يَكُونُ طَلَاقًا حَتَّى يُوقَفَ ".
حافظ ثناء اللہ
ثابت بن عبید جو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، فرماتے ہیں کہ ١٢ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ایلا طلاق نہیں ہے یہاں تک کہ ایلا کرنے والے کو قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 15209
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُؤْلِي قَالُوا: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَيُوقَفُ فَإِنْ فَاءَ وَإِلَّا طَلَّقَ ".
حافظ ثناء اللہ
سہیل بن ابی صالح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ۱۲ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایلا کرنے والے شخص کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، لیکن جب چار ماہ گزر جائیں تو ایلا کرنے والے کو کھڑا کیا جائے گا، اگر رجوع کرے تو درست وگرنہ طلاق دے۔
حدیث نمبر: 15210
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يُوقَفُ الْمَوْلَى ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایلاء کرنے والے کو کھڑا فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 15211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ لَا يَرَى الْإِيلَاءَ شَيْئًا وَإِنْ مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ حَتَّى يُوقَفَ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قسم اٹھانے کو کچھ بھی خیال نہیں کرتے تھے، پھر اگر چار ماہ گزر جاتے تو قسم اٹھانے والے کو کھڑا کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 15212
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا " أَوْقَفَ الْمُؤْلِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، وہ ایلا کرنے والے کو کھڑا فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 15213
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَوْقَفَ الْمُؤْلِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایلا کرنے والے کو کھڑا فرماتے، یعنی اس لیے کہ یا تو بیوی سے رجوع کرو یا طلاق دو۔
حدیث نمبر: 15214
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يُوقِفُ الْمُؤْلِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایلا کرنے والے کو کھڑا فرماتے۔
حدیث نمبر: 15215
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْإِيلَاءِ: " إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَلَمْ يُوقَفْ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ وَلَوْ مَرَّتِ السَّنَةُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ طَلَاقٌ حَتَّى يُوقَفَ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایلا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب چار ماہ گزر جائیں اور ایلا کرنے والے کو کھڑا نہ کیا جائے تو یہ طلاق نہ ہوگی، اگر سال بھی گزر جائے تو طلاق نہ ہوگی، جب تک ایلا کرنے والے کو کھڑا نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 15216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " يُوقَفُ بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ، فَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایلاء کرنے والے کو چار ماہ کے بعد کھڑا کیا جائے گا، یا تو بیوی سے رجوع کرے یا طلاق دے۔
حدیث نمبر: 15217
وَأَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ⦗٦٢٠⦘ أَبِي لَيْلَى قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَوْقَفَ رَجُلًا عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ قَالَ: فَوَقَفَهُ فِي الرَّحْبَةِ إِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْصُولٌ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ وَقَفَ عِنْدَ تَمَامِ الْأَرْبَعَةِ فَقِيلَ لَهُ: إِمَّا أَنْ تُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ تَعْزِمَ الطَّلَاقَ قَالَ: وَيُجْبَرُ عَلَى ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے ایلا کرنے والے شخص کو چار ماہ کے بعد کھڑا کیا، فرماتے ہیں: اونچی جگہ کھڑا کر کے فرمایا: یا تو بیوی سے رجوع کر لے یا طلاق دے دے۔
(ب) ابو البختری رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کے بارے میں قسم اٹھا لیتا ہے تو وہ چار ماہ کی تکمیل پر کھڑا ہو۔ اس سے کہا جائے گا کہ رجوع کرو یا طلاق دو، اس پر زبردستی کی جائے گی۔
(ب) ابو البختری رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کے بارے میں قسم اٹھا لیتا ہے تو وہ چار ماہ کی تکمیل پر کھڑا ہو۔ اس سے کہا جائے گا کہ رجوع کرو یا طلاق دو، اس پر زبردستی کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 15218
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ح، وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي قَالَا: نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يُفِيءَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ حَتَّى يُوقَفَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کے متعلق قسم اٹھائی، جب چار ماہ گزر جائیں تو اسے کھڑا کیا جائے، یا تو طلاق دے یا رجوع کرے اور چار ماہ گزر جانے کے باوجود طلاق نہ ہو گی، جب تک اس کو کھڑا نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 15219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِذَا ذُكِرَ مَا الرَّجُلُ يَحْلِفُ أَنْ لَا يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ فَيَدَعَهَا خَمْسَةَ أَشْهُرٍ " لَا تَرَى ذَلِكَ شَيْئًا حَتَّى يُوقَفَ " وَتَقُولُ: كَيْفَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جب ایسے شخص کا تذکرہ ہوا جس نے اپنی بیوی کے پاس نہ آنے کی قسم کھائی، اس کو پانچ ماہ چھوڑے رکھا تو وہ اس کے بارے میں کچھ بھی خیال نہ فرماتی تھیں، یہاں تک کہ اس کو کھڑا کیا جائے اور وہ فرماتی تھیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”اچھائی سے روکنا یا احسان کر کے چھوڑ دینا ہے۔“
حدیث نمبر: 15220
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْإِيلَاءِ: " لَا شَيْءَ وَإِنْ مَضَتْ سَنَةٌ فَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایلا کرنے والے کے بارے میں فرماتی تھیں: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں اگرچہ سال بھی گزر جائے، یا تو وہ رجوع کرے یا طلاق دے۔
حدیث نمبر: 15221
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: " يُوقَفُ الْمُؤْلِي بَعْدَ انْقِضَاءِ الْمُدَّةِ، فَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوذر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مدت گزرنے کے بعد قسم اٹھانے والے کو کھڑا کیا جائے گا، یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔
حدیث نمبر: 15222
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو ⦗٦٢١⦘ بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا السُّلَمِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ يُوسُفَ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ فِي الْإِيلَاءِ: " يُوقَفُ عِنْدَ انْقِضَاءِ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایلاء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ چار ماہ گزر جانے کے بعد اس کو کھڑا کیا جائے گا یا تو طلاق دے یا رجوع کر لے۔