حدیث نمبر: 15232
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، نا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، نا أَسْبَاطٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، فِي آيَةِ الْإِيلَاءِ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: " إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَإِنَّهُ يُوقَفُ، فَيُقَالُ لَهُ أَمْسَكْتَ أَوْ طَلَّقْتَ، فَإِنْ أَمْسَكَ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ طَلَّقَ فَهِيَ طَالِقٌ بَائِنَةٌ " وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ " إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ طَالِقٌ بَائِنَةٌ وَهِيَ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي احْتِجَاجِهِمْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قُلْنَا أَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنْتَ تُخَالِفُهُ فِي الْإِيلَاءِ قَالَ: وَمِنْ أَيْنَ.
حافظ ثناء اللہ

اسباط سدی سے ایلا کی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب مرد اپنی بیوی سے ایلا کرتا ہے تو چار ماہ گزر جانے کے بعد اس کو کھڑا کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ”تو نے بیوی کو روکنا ہے یا طلاق دینی ہے؟“ اگر روک لے تو یہ اس کی بیوی ہے، اگر یہ طلاق دے تو طلاق بائنہ ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب چار ماہ گزر جائیں تو اس عورت کو طلاق بائنہ ہے اور یہ عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے دلیل لیتے ہیں۔ ہم نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تو ایلا میں مخالفت کرتے ہیں، فرماتے ہیں: وہ کیا؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإيلاء / حدیث: 15232
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»