کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے“ اس سے مراد ولی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الَّذِي ذَكَرَ اللهُ تَعَالَى {أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ} [البقرة: ٢٣٧] قَالَ: " ذَاكَ أَبُوهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، یعنی ﴿أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237]، اس سے مراد عورت کا باپ ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ} [البقرة: ٢٣٧] قَالَ: " أَنْ تَعْفُوَ الْمَرْأَةُ " {أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ} [البقرة: ٢٣٧]: " الْوَلِيُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ﴾ [سورة البقرة: 237] کے متعلق فرماتے ہیں کہ عورت معاف کر دے یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، یعنی ولی معاف کر دے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ} [البقرة: ٢٣٧] قَالَ: " هِيَ الْمَرْأَةُ الثَّيِّبُ أَوِ الْبِكْرُ يُزَوِّجُهَا غَيْرُ أَبِيهَا فَجَعَلَ اللهُ الْعَفْوَ إِلَيْهِنَّ إِنْ شِئْنَ تَرَكْنَ، وَإِنْ شِئْنَ أَخَذْنَ نِصْفَ الصَّدَاقِ "، ثُمَّ قَالَ: " {أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ} [البقرة: ٢٣٧] وَهُوَ أَبُو الْجَارِيَةِ الْبِكْرِ، جَعَلَ اللهُ الْعَفْوَ إِلَيْهِ لَيْسَ لَهَا مَعَهُ أَمْرٌ إِذَا طُلِّقَتْ مَا كَانَتْ فِي حِجْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ﴾ [سورة البقرة: 237] کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ بیوہ یا باکرہ عورت جس کا نکاح باپ کے علاوہ کوئی دوسرا کرتا ہے، اگر یہ چاہیں تو حق مہر وصول کریں یا معاف کر دیں، پھر فرمایا: ﴿أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] اس سے مراد کنواری بچی کا باپ ہے، اللہ نے معاف کرنے کا اختیار اسے دیا ہے، اس کے ساتھ لڑکی کا کوئی اختیار نہیں جب اسے طلاق دی جائے، جب تک وہ اس کی پرورش میں ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ قَالَ: " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الْوَلِيُّ " قَالَ شُرَيْحٌ: " الزَّوْجُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] سے مراد ولی ہے۔ قاضی شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد خاوند ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُشَيْرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " هُوَ الْوَلِيُّ " قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ: " وَلَا يُعْجِبُنَا هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ولی ہے، سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پسند نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْهَرَوِيّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: " أَمَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بِالْعَفْوِ وَأَذِنَ فِيهَا، فَإِنْ عَفَتْ جَازَ عَفْوُهَا وَإِنْ شَحَّتْ وَعَفَا وَلِيُّهَا جَازَ عَفْوُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے معاف کرنے کا حکم دیا اور اس کی اجازت دی، اگر عورت معاف کرے تو اس کا معاف کرنا جائز ہے، اگر بخیلی کرے اور اس کا ولی معاف کر دے تو اس کا معاف کرنا بھی جائز ہے۔
(ب) پہلا قول زیادہ صحیح ہے: ﴿أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237]
(ب) پہلا قول زیادہ صحیح ہے: ﴿أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237]