کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ جب تک شوہر عورت کا مہر یا وہ چیز جس پر وہ راضی ہو، ادا نہ کر دے اس کے پاس خلوت میں نہ جائے۔
حدیث نمبر: 14461
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قِمَاشٍ، وَعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمَّا تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: ابْنُ أَبِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " أَعْطِهَا شَيْئًا " فَقُلْتُ: أَثِبْنِي يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدِي شَيْءٌ قَالَ: " فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: هَا هِيَ ذِي عِنْدِي قَالَ: " أَعْطِهَا إِيَّاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ سے شادی کی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ مجھ سے دور رہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ دو۔“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْحُطَمِيَّةُ» (حطمیہ) درع کہاں ہے؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہی اس کو دے دو۔“
حدیث نمبر: 14462
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَيْسَ لِي شَيْءٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا دِرْعَكَ "، فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا قَالَ: وَحَدَّثَنَا كَثِيرٌ ثنا أَبُو حَيْوَةَ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان صحابہ میں سے کسی سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور دخول کا ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے منع فرما دیا کہ ”پہلے فاطمہ کو کچھ دو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی درع ہی دے دو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے درع دے کر دخول کیا۔
حدیث نمبر: 14463
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " إِذَا نَكَحَ الرَّجُلُ امْرَأَةً فَسَمَّى لَهَا صَدَاقًا فَأَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا فَلْيُلْقِ إِلَيْهَا رِدَاءً أَوْ خَاتَمًا إِنْ كَانَ مَعَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے اور حق مہر بھی مقرر کر دے اور دخول کا ارادہ ہو تو اپنی چادر یا انگوٹھی پہلے عورت کو دے اگر موجود ہو۔
حدیث نمبر: 14464
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: " لَا يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْمَرْأَةِ حَتَّى يُقَدِّمَ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنْ مَالِهِ مَا رَضِيَتْ بِهِ مِنْ كِسْوَةٍ وَعَطَاءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی مرد کے لیے یہ درست نہیں کہ عورت کو کچھ دیے بغیر اس سے دخول کرے اس کی رضامندی کے بغیر، لیکن اس کو کپڑا یا عطیہ دے کر راضی کرے۔