کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِتَرْكِهِ النَّهْيَ عَنِ الْقِنْطَارِ وَهُوَ كَثِيرٌ، وَتَرْكِهِ حَدَّ الْقَلِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ (اللہ تعالیٰ نے) قنطار (ڈھیروں مال بطورِ مہر دینے) سے منع نہیں فرمایا حالانکہ وہ بہت زیادہ ہے، اور کم سے کم (مہر) کی کوئی حد بھی مقرر نہیں فرمائی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَمَاتَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأَنَّهَا ⦗٣٨٠⦘ لَبِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَمَهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَمِائَةِ دِرْهَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں، جب انہوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی تو وہاں فوت ہو گئے، رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حبشہ کی زمین میں نکاح کیا اور نجاشی نے یہ فریضہ سر انجام دیا اور ان کا حق مہر چار ہزار تھا، نجاشی نے اپنی جانب سے تیار کر کے شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو روانہ کر دیا، تمام قسم کا سامان نجاشی کی جانب سے تھا، نبی ﷺ نے کچھ بھی اپنی جانب سے ادا نہ کیا اور نبی ﷺ کی بیویوں کے حق مہر چار سو درہم تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَقَدْ خَرَجْتُ أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَنْهَى عَنْ كَثْرَةِ مُهُورِ النِّسَاءِ حَتَّى قَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا} [النساء: ٢٠] "، هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس غرض سے نکلا تھا کہ عورتوں کو زیادہ حق مہر سے منع کر دیا جائے لیکن پھر میں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا﴾ [سورة النساء: 20] ”اور تم ان میں سے کسی کو بھی خزانہ عطا کر دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: " أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَبْلُغُنِي عَنْ أَحَدٍ سَاقَ أَكْثَرَ مِنْ شَيْءٍ سَاقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سِيقَ إِلَيْهِ إِلَّا جَعَلْتُ فَضْلَ ذَلِكَ فِي بَيْتِ الْمَالِ " ثُمَّ نَزَلَ، فَعَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ قَرِيبٍ، فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكِتَابُ اللهِ تَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَوْ قَوْلُكَ؟ قَالَ: " بَلْ كِتَابُ اللهِ تَعَالَى، فَمَا ذَاكَ؟ " قَالَتْ: نَهَيْتَ النَّاسَ آنِفًا أَنْ يُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ وَاللهُ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا} [النساء: ٢٠]، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ أَلَا فَلْيَفْعَلْ رَجُلٌ فِي مَالِهِ مَا بَدَا لَهُ "، هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: عورتوں کے حق مہر زیادہ نہ دو، اگر مجھے پتا چلا کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حق مہر ادا کیا ہے، اس کو دیا گیا تو وہ زائد مال بیت المال میں جمع کرا دوں گا۔ پھر منبر سے نیچے آئے تو ایک قریشی عورت نے کہا: اے امیر المومنین! کیا کتاب اللہ کی پیروی زیادہ حق رکھتی ہے یا آپ کا قول؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اللہ کی کتاب، لیکن ہوا کیا؟ کہنے لگی: آپ نے ابھی لوگوں کو عورتوں کے حق مہر زیادہ دینے سے منع فرمایا جب کہ اللہ کی کتاب میں ہے: ﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا﴾ [سورة النساء: 20] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہر ایک، عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ فقیہ ہے، دو یا تین مرتبہ یہ بات فرمائی۔ پھر منبر کی جانب آئے اور لوگوں سے فرمانے لگے: میں نے تمہیں زیادہ حق مہر دینے سے منع کیا تھا، لیکن مرد اپنے مال میں سے جتنا دینا چاہے اس کی مرضی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْقِنْطَارُ أَلْفٌ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خزانے سے مراد ۱۲۰۰ اوقیہ ہیں۔
۱۲ اوقیہ ۴۸۰ درہم کا ہوتا ہے اور ایک اوقیہ ۴۰ درہم کا۔
۱۲ اوقیہ ۴۸۰ درہم کا ہوتا ہے اور ایک اوقیہ ۴۰ درہم کا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أنبأ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْقِنْطَارُ أَلْفٌ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خزانے سے مراد بارہ سو اوقیہ ہے۔
قَالَ وَثَنَا عَلِيٌّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْقِنْطَارُ مِلْءُ مَسْكِ النُّورِ ذَهَبًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خزانہ یہ ہے کہ بیل کی کھال کو سونے سے بھر کر دینا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ أَوْ أَلْفُ دِينَارٍ "، وَفِي رِوَايَةِ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " الْقِنْطَارُ أَلْفٌ وَمِائَتَا دِينَارٍ، وَمِنَ الْفِضَّةِ أَلْفٌ وَمِائَتَا مِثْقَالٍ "، وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " الْقِنْطَارُ سَبْعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ "، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " الْقِنْطَارُ ثَمَانُونَ أَلْفًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خزانہ ۱۲ ہزار درہم ہوتے ہیں۔
(ب) حضرت عطیہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ۱۲ سو دینار اور چاندی سے ۱۲ سو مثقال ہوتے ہیں۔
(ج) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خزانہ سے مراد ۷۰ ہزار دینار ہیں۔
(د) اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ۸۰ ہزار مراد ہیں۔
(ب) حضرت عطیہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ۱۲ سو دینار اور چاندی سے ۱۲ سو مثقال ہوتے ہیں۔
(ج) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خزانہ سے مراد ۷۰ ہزار دینار ہیں۔
(د) اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ۸۰ ہزار مراد ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ دِينَارٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَصْدَقَ أُمَّ كُلْثُومِ بِنْتَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کو ۴۰ ہزار درہم حق مہر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُزَوِّجُ بَنَاتَهُ عَلَى أَلْفِ دِينَارٍ، فَيُحَلِّيهَا مِنْ ذَلِكَ بِأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیٹیوں کی شادی ایک ہزار دینار حق مہر کے عوض کرتے اور 400 درہم کا زیور بنا کر دیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: تَزَوَّجَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةً عَلَى عِشْرِينَ أَلْفًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے چالیس ہزار حق مہر کے عوض شادی کی۔