السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: لا وقت في الصداق كثر أو قل باب: اس بیان میں کہ مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔
حدیث نمبر: 14340
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ أَوْ أَلْفُ دِينَارٍ "، وَفِي رِوَايَةِ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " الْقِنْطَارُ أَلْفٌ وَمِائَتَا دِينَارٍ، وَمِنَ الْفِضَّةِ أَلْفٌ وَمِائَتَا مِثْقَالٍ "، وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " الْقِنْطَارُ سَبْعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ "، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " الْقِنْطَارُ ثَمَانُونَ أَلْفًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خزانہ ۱۲ ہزار درہم ہوتے ہیں۔
(ب) حضرت عطیہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ۱۲ سو دینار اور چاندی سے ۱۲ سو مثقال ہوتے ہیں۔
(ج) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خزانہ سے مراد ۷۰ ہزار دینار ہیں۔
(د) اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ۸۰ ہزار مراد ہیں۔