حدیث نمبر: 14344
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ ⦗٣٨٢⦘ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ " قَالَتْ: " أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: " نِصْفُ أُوقِيَّةٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کتنا حق مہر ادا کیا تھا؟ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی بیویوں کو صرف ١٢ «أُوقِيَّة» ”اوقیہ“ حق مہر ادا کیا۔ پوچھنے لگیں کہ کیا پتا ہے «نَشّ» ”نش“ سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو فرمایا: «نِصْفُ أُوقِيَّة» ”نصف اوقیہ“۔
حدیث نمبر: 14345
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أُوقِيَّةً "، وَزَادَ فِيهِ " فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ يَعْنِي أَبَا عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيَّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمر مکی، عبدالعزیز سے نقل فرماتے ہیں کہ «أُوقِيَّةٌ» (اس میں اضافہ بھی ہے کہ) پانچ سو درہم، یہ رسول اللہ ﷺ کا اپنی بیویوں کے لیے حق مہر تھا۔
حدیث نمبر: 14346
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرُوَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا مِنْ نِسَائِهِ وَلَا بَنَاتِهِ فَوْقَ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً إِلَّا أُمَّ حَبِيبَةَ فَإِنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَهُ إِيَّاهَا وَأَصْدَقَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ وَنَقَدَ عَنْهُ، وَدَخَلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا "، كَذَا قَالَ عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ فَقَالَ: عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں اور بیٹیوں کے حق مہر صرف بارہ اوقیہ تھے سوائے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے؛ کیونکہ ان کا نکاح نجاشی نے کیا اور چار ہزار حق مہر بھی ادا کیا اور یہ نقد تھا اور نبی ﷺ نے دخول بھی کیا لیکن کچھ بھی نہ دیا۔
حدیث نمبر: 14347
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَالْمُغَالَاةَ فِي مُهُورِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ تَقْوَى عِنْدَ اللهِ أَوْ مَكْرُمَةً عِنْدَ النَّاسِ لَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَاكُمْ بِهَا، مَا نَكَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ وَاحِدَةً مِنْ بَنَاتِهِ بِأَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَهِيَ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَمَانُونَ دِرْهَمًا، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُغَالِي بِمَهْرِ امْرَأَتِهِ حَتَّى تَبْقَى عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ فَيَقُولُ: لَقَدْ كُلِّفْتُ لَكَ عِلْقَ الْقِرْبَةِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: " اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَنِصْفٌ "، فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا وَافَقَ رِوَايَةَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم عورتوں کو زیادہ حق مہر دینے سے بچو۔ اگر یہ اللہ کے ہاں تقویٰ اور لوگوں کے نزدیک عزت والی بات ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ لائق تھے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج اور اپنی بیٹیوں کے نکاح کیے اور حق مہر صرف بارہ اوقیہ تھا اور یہ چار سو اسی درہم بنتے ہیں۔ ان میں سے کوئی اپنی بیوی کا حق مہر اتنا زیادہ کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نفس کا بھی دشمن بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تیری وجہ سے لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرح تکلیف اٹھائی ہے۔
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ نے بارہ اوقیہ اور نصف بیان کیا ہے، جو ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اس کی موافقت میں۔
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ نے بارہ اوقیہ اور نصف بیان کیا ہے، جو ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اس کی موافقت میں۔
حدیث نمبر: 14348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، بِالرِّيِّ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَتِيقِ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ ⦗٣٨٣⦘ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ أَبِي الْعَجْفَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تُغَالُوا بِمَهْرِ النِّسَاءِ "، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُغْلِي بِالْمَهْرِ حَتَّى يَقُولَ: وَكُلِّفْتُ فِيكِ عِلْقَ الْقِرْبَةِ يَتَّخِذُهُ ذَنْبًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی عجفاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتوں کو حق مہر زیادہ نہ دیا کرو۔“ انہوں نے حماد کی حدیث کے موافق ذکر کیا ہے کہ کوئی شخص حق مہر زیادہ دیتا ہے اور پھر وہ کہتا ہے: ”تیری وجہ سے میں تکلیف میں مبتلا کیا گیا ہوں جیسے لٹکا ہوا مشکیزہ جو ڈول بن گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 14349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَا اسْتَحَلَّ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَّا بِبُدْنٍ مِنْ حَدِيدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بدن کو اپنے لیے لوہے کے عوض حلال کیا۔
حدیث نمبر: 14350
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَذَكَرْتُ أَنَّهُ لَا شَيْءَ لِي ثُمَّ ذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَصِلَتَهُ فَخَطَبْتُهَا فَقَالَ: " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَهَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا؟ " قَالَ: هِيَ عِنْدِي قَالَ: " فَأَعْطِهَا إِيَّاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے ایک شخص کا نام لیا، جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میرا ارادہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کی بیٹی کے نکاح کا پیغام دوں، لیکن مجھے یاد آیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، لیکن پھر مجھے یاد آیا تو میں پلٹ کر آپ ﷺ سے ملا اور میں نے پیغامِ نکاح دے دیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں نے تجھے حطمیہ درع فلاں دن دی تھی وہ کہاں ہے؟“ کہتے ہیں: یہ میرے پاس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کو دے دو۔“
حدیث نمبر: 14351
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ خُطِبَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لِي مَوْلَاةٌ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ فَاطِمَةَ تُخْطَبُ؟ قُلْتُ: لَا أَوْ نَعَمْ قَالَتْ: فَاخْطُبْهَا إِلَيْهِ قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ عِنْدِي شَيْءٌ أَخْطُبُهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: فَوَاللهِ مَا زَالَتْ تُرَجِّينِي حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَكُنَّا نُجِلُّهُ وَنُعَظِّمُهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ أُلْجِمْتُ حَتَّى مَا اسْتَطَعْتُ الْكَلَامَ، قَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟ "، فَسَكَتُّ، فَقَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: " لَعَلَّكَ جِئْتَ تَخْطُبُ فَاطِمَةَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تَسْتَحِلُّهَا بِهِ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَمَا فَعَلْتَ بِالدِّرْعِ الَّتِي كُنْتُ سَلَّحْتُكَهَا؟ "، قَالَ: عَلِيٌّ وَاللهِ إِنَّهَا لَدِرْعٌ حُطَمِيَّةٌ مَا ثَمَنُهَا إِلَّا أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ: " اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا وَابْعَثْ بِهَا إِلَيْهَا فَاسْتَحِلَّهَا بِهِ "، كَذَا فِي كِتَابِي " أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ "، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فَقَالَ: " أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا گیا تو میری ایک لونڈی نے مجھ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ فاطمہ کو پیغامِ نکاح دیا گیا ہے؟ میں نے «نَعَمْ» ”ہاں“ یا «لَا» ”نہیں“ کہا تو وہ کہنے لگی: آپ بھی پیغامِ نکاح دیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے پاس کیا ہے کہ میں دے کر نکاح کروں؟ لیکن وہ مجھے ترغیب دیتی رہی یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے پاس چلا گیا، اور میں آپ ﷺ کی تعظیم بہت زیادہ کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ کے سامنے بیٹھ کر کلام نہ کر سکا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تجھے کوئی کام ہے؟“ میں خاموش رہا یہاں تک کہ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید آپ فاطمہ کو نکاح کا پیغام دینے آئے ہیں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرے پاس کیا چیز ہے جس کے ذریعے تو اس کو اپنے لیے حلال کر سکے؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: کچھ بھی نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے پوچھا: ”جو میں نے تجھے اسلحہ کے طور پر زرہ دی تھی وہ کدھر ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس زرہ کی قیمت صرف چار سو درہم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا ہے لیکن وہ زرہ ان کو دے کر اپنے لیے حلال کر لو۔“
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔
حدیث نمبر: 14352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصْدَقَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ وَجَرَّةَ دَوَّارٍ، " وَإِنَّ صَدَاقَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حق مہر میں لوہے کی زرہ دی اور مٹی کا مٹکا دیا اور نبی ﷺ کی عورتوں کا حق مہر پانچ سو درہم تھا۔
حدیث نمبر: 14353
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے حق مہر نبی ﷺ کے دور میں دس اوقیہ یعنی ۴۰۰ درہم ہوا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14354
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: فَتًى، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " قَالَ: قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا قَالَ: " عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟ فَذَكَرَ شَيْئًا " قَالَ: " فَكَأَنَّكُمْ تَنْحِتُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ مِنْ عَرْضِ هَذِهِ الْجِبَالِ، مَا عِنْدَنَا الْيَوْمَ شَيْءٌ نُعْطِيكَهُ وَلَكِنْ سَأَبْعَثُكَ فِي وَجْهٍ تُصِيبُ فِيهِ "، فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ وَبَعَثَ الرَّجُلَ فِيهِمْ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْيَتْنِي نَاقَتِي أَنْ تَنْبَعِثَ قَالَ: فَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَالْمُعْتَمِدِ عَلَيْهِ لِلْقِيَامِ فَأَتَاهَا فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُهَا تَسْبِقُ الْقَائِدَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص یا نوجوان نبی ﷺ کے پاس آیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کی طرف دیکھا؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے، فرمایا: ”تو نے کتنا حق مہر ادا کیا ہے؟“ اس نے کچھ ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا کہ تم سونے، چاندی کو ان پہاڑوں سے کرید لیتے ہو۔ لیکن آج ہمارے پاس جو کچھ ہے آپ کو دیں گے لیکن میں تجھے اس طرف روانہ کرتا ہوں جہاں سے آپ کچھ حاصل کر لیں گے۔“ اور آپ ﷺ نے بنو عبس کی طرف لشکر میں اس کو روانہ کر دیا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری اونٹنی تھک گئی ہے کہ مجھے اٹھائے، تو رسول اللہ ﷺ اس کے ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو پاؤں سے مارا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ باقی سواریوں سے آگے بڑھ گئی تھی۔
حدیث نمبر: 14355
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِينُهُ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ فَقَالَ: " كَمْ أَمْهَرْتَهَا "، فَقَالَ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بُطْحَانَ مَا زِدْتُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو حدرد سلمی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آکر عورت کے مہر میں مدد مانگ رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟“ کہنے لگے: ”دو سو درہم۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم بطحان وادی کے پودوں کو کاٹتے تو حق مہر زیادہ نہ کرتے۔“
حدیث نمبر: 14356
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ الْمَالِكِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْمَازِنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٣٨٥⦘ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرَهُنَّ صَدَاقًا "، لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ: " أَيْسَرُهُنَّ مُؤْنَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ عورتیں برکت کے اعتبار سے بڑی ہیں جن کے حق مہر آسان ہوں۔“
(ب) یزید بن ہارون کی روایت میں ہے: ”خرچے کے اعتبار سے آسان۔“
(ب) یزید بن ہارون کی روایت میں ہے: ”خرچے کے اعتبار سے آسان۔“
حدیث نمبر: 14357
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، حَدَّثَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَتَيَسَّرَ خِطْبَتُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ صَدَاقُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ رَحِمُهَا "، قَالَ عُرْوَةُ: يَعْنِي يَتَيَسَّرُ رَحِمُهَا لِلْوِلَادَةِ، قَالَ عُرْوَةُ: وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي: مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”عورت کا بابرکت ہونا یہ ہے کہ نکاح آسان، حق مہر تھوڑا اور اولاد کے لیے رحم کا آسان ہونا۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی اس کا رحم اولاد کے لیے آسان ہو۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں تو عورت کی پہلی نحوست یہ خیال کرتا ہوں کہ اس کا حق مہر زیادہ ہو۔