السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: لا وقت في الصداق كثر أو قل باب: اس بیان میں کہ مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔
حدیث نمبر: 14342
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُزَوِّجُ بَنَاتَهُ عَلَى أَلْفِ دِينَارٍ، فَيُحَلِّيهَا مِنْ ذَلِكَ بِأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیٹیوں کی شادی ایک ہزار دینار حق مہر کے عوض کرتے اور 400 درہم کا زیور بنا کر دیتے۔