السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: لا وقت في الصداق كثر أو قل باب: اس بیان میں کہ مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: " أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَبْلُغُنِي عَنْ أَحَدٍ سَاقَ أَكْثَرَ مِنْ شَيْءٍ سَاقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سِيقَ إِلَيْهِ إِلَّا جَعَلْتُ فَضْلَ ذَلِكَ فِي بَيْتِ الْمَالِ " ثُمَّ نَزَلَ، فَعَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ قَرِيبٍ، فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكِتَابُ اللهِ تَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَوْ قَوْلُكَ؟ قَالَ: " بَلْ كِتَابُ اللهِ تَعَالَى، فَمَا ذَاكَ؟ " قَالَتْ: نَهَيْتَ النَّاسَ آنِفًا أَنْ يُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ وَاللهُ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا} [النساء: ٢٠]، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ أَلَا فَلْيَفْعَلْ رَجُلٌ فِي مَالِهِ مَا بَدَا لَهُ "، هَذَا مُنْقَطِعٌ.امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: عورتوں کے حق مہر زیادہ نہ دو، اگر مجھے پتا چلا کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حق مہر ادا کیا ہے، اس کو دیا گیا تو وہ زائد مال بیت المال میں جمع کرا دوں گا۔ پھر منبر سے نیچے آئے تو ایک قریشی عورت نے کہا: اے امیر المومنین! کیا کتاب اللہ کی پیروی زیادہ حق رکھتی ہے یا آپ کا قول؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اللہ کی کتاب، لیکن ہوا کیا؟ کہنے لگی: آپ نے ابھی لوگوں کو عورتوں کے حق مہر زیادہ دینے سے منع فرمایا جب کہ اللہ کی کتاب میں ہے: ﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا﴾ [سورة النساء: 20] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہر ایک، عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ فقیہ ہے، دو یا تین مرتبہ یہ بات فرمائی۔ پھر منبر کی جانب آئے اور لوگوں سے فرمانے لگے: میں نے تمہیں زیادہ حق مہر دینے سے منع کیا تھا، لیکن مرد اپنے مال میں سے جتنا دینا چاہے اس کی مرضی ہے۔