کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ سیدہ بریرہ کا شوہر اس دن آزاد تھا جب وہ آزاد کی گئیں۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ فَقَالَتْ: مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَلِي كَذَا وَكَذَا "، هَكَذَا أَدْرَجَهُ الثَّوْرِيُّ فِي الْحَدِيثِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَقَوْلُهُ كَانَ زَوْجُهَا حُرًّا مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ لَا مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِدَلِيلِ مَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ کا خاوند آزاد تھا، جب بریرہ کو آزاد کیا گیا تو اسے اختیار دیا گیا، وہ کہتی ہیں کہ مجھے پسند نہیں کہ میں اس کے ساتھ رہوں، اگرچہ میرے لیے اس اس طرح ہو۔
ثوری نے اسے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں درج کر دیا ہے، حالانکہ ”اس کا خاوند آزاد تھا“ والا جملہ اسود کا قول ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں، جیسا کہ اگلی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14274
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دون قول ،كان حرا»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْحَجَبِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا، ⦗٣٦٤⦘ فَقَالَ: " أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ أَوْ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ " قَالَ: فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا قَالَ: وَخُيِّرَتْ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ. قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا..
حافظ ثناء اللہ
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدا تو اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: میں بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں اور اس کے مالک ولاء کی شرط رکھتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کر؛ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے یا قیمت کے ادا کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“، فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر آزاد کردیا، راوی کہتے ہیں کہ بریرہ کو اختیار دیا گیا تو انہوں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا، بریرہ کہنے لگی: اگر مجھے اتنا اتنا بھی دیا جائے، تب بھی میں اس کے ساتھ نہ رہوں گی، اسود کہتے ہیں: اس کا خاوند آزاد تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14275
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَفِي آخِرِهِ: وَقَالَ الْأَسْوَدُ: " وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ هَكَذَا. ثُمَّ قَالَ: قَوْلُ الْأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُ عَبْدًا أَصَحُّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ تَابَعَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيِّ عَنْهُ، عَنْ مَنْصُورٍ أَبَا عَوَانَةَ عَلَى فَصْلِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ مِنَ الْحَدِيثِ وَتَمْيِيزِهَا عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
ابو عوانہ سے یہ روایت اسی طرح منقول ہے، اور اس کے آخر میں ہے کہ اسود نے کہا: ”اس کا خاوند آزاد تھا۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسود کا قول منقطع ہے، جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ میں نے اسے غلام دیکھا، زیادہ صحیح ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جریر بن عبدالحمید نے (اسحاق حنظلی کی روایت میں) منصور سے روایت کرتے ہوئے اس جملے کو حدیث سے الگ اور ممتاز کرنے میں ابو عوانہ کی متابعت کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14276
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَادِلِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ فِيهِ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ الْأَسْوَدُ: " وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا ".
حافظ ثناء اللہ
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ارادہ تھا کہ وہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدیں، انہوں نے حدیث کو بیان کیا، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اختیار دیا تو اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا، اسود کہتے ہیں: اس کا خاوند آزاد تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14277
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا "، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ "، هَكَذَا أَدْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَبَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ شُعْبَةَ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ جَعَلَهُ بَعْضُهُمْ مِنْ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَعْضُهُمْ مِنْ قَوْلِ الْحَكَمِ.
حافظ ثناء اللہ
اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“ اور خاوند کے بارے میں اس کو اختیار دیا اور اس کا خاوند آزاد تھا اور نبی کریم ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
ابوداود طیالسی اور شعبہ سے روایت کرنے والے بعض راویوں نے اسے (آزاد ہونے والے جملے کو) اسی طرح حدیث میں درج کر دیا ہے، جبکہ بعض نے اسے ابراہیم کا قول قرار دیا ہے اور بعض نے حکم کا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14278
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دون قوله، كان حرا»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، وَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ⦗٣٦٥⦘ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقُلْتُ: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ "، قَالَ الْحَكَمُ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ شُعْبَةَ وَفِي آخِرِهِ قَالَ الْحَكَمُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَوْلُ الْحَكَمِ مُرْسَلٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: رَأَيْتُهُ عَبْدًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كُلُّهُمْ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا ".
حافظ ثناء اللہ
اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے ورثاء نے ولاء کی شرط لگانے کا ارادہ کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے تذکرہ فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید لو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے گوشت لایا گیا، فرماتی ہیں: میں نے کہا: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد تھا تو بریرہ کو خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا۔
حکم فرماتے ہیں: بریرہ کا خاوند آزاد تھا۔ (مرسل ہے)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اس کو غلام دیکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن محمد، عروہ بن زبیر، مجاہد اور عمرہ بنت عبدالرحمن تمام حضرات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14279
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دون قول، كان حرا»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُحَمَّدَ بْنَ مُوسَى الْمُقْرِئَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: خَالَفَ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ النَّاسَ فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ، فَقَالَ " إِنَّهُ حُرٌّ "، وَقَالَ النَّاسُ: " إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ اسود بن یزید نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کے بارے میں لوگوں سے مخالفت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ آزاد تھا اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ غلام تھا۔
(ب) اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی ملی تو اس وقت وہ غلام تھا اور دوسرے نے کہا کہ وہ آلِ ابی احمد کا غلام تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14280
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا بِالْأَوَّلِ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ بْنُ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، وَأَخْبَرَنَا بِالثَّانِي أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ صَاحِبُ أَبِي صَخْرَةَ، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ فَذَكَرَاهُ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَيْنِ الْوَجْهَيْنِ، فَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَالْأَعْمَشِ بِخِلَافِ ذَلِكَ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى مَا سَبَقَ ذِكْرُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
یہ دونوں روایتیں ابو جعفر رازی کے واسطے سے بیان ہوئی ہیں، اور ان دونوں طریقوں سے یہ کچھ بھی نہیں ہے؛ کیونکہ ثوری اور اعمش سے جماعت کی روایت اس کے خلاف ہے، اور اعتماد اسی پر ہے جو پہلے ذکر ہو چکا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ لَنَا: أَيُّهُمَا تَرَوْنَ أَثْبَتُ عُرْوَةُ، أَوْ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ؟، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أَهْلُ الْحِجَازِ أَثْبَتُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُرِيدُ عَلِيٌّ رِوَايَةَ عُرْوَةَ وَأَمْثَالِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ تم عروہ یا ابراہیم کو اسود سے نقل کرنے میں کسی کو «أَثْبَتُ» ”زیادہ مستند“ جانتے ہو؟ پھر علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ اہل حجاز «أَثْبَتُ» ”زیادہ مستند“ ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی کی مراد یہ ہے کہ عروہ اور ان جیسے اہل حجاز کی روایت اہل کوفہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14282
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»