کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: (آزاد ہونے والی لونڈی کے لیے) اختیار کے وقت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا: " إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ کو آزادی ملی جب وہ مغیث کے نکاح میں تھیں، جو آلِ ابی احمد کے غلام تھے، تو بریرہ کو نبی ﷺ نے اختیار دے دیا اور فرمایا: ”اگر مغیث نے تیرے ساتھ مجامعت کر لی تو پھر تجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14283
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٣٦٧⦘ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي لِبَرِيرَةَ: " إِنْ وَطِئَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ "، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اگر مغیث نے تجھ سے مجامعت کر لی تو تجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔“
یہ روایت صرف محمد بن ابراہیم نے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14284
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ " أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ مَا لَمْ يَمَسَّهَا "، زَادَ مَالِكٌ فِي رِوَايَتِهِ: فَإِنْ مَسَّهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو لونڈی غلام کے نکاح میں ہو اس کو آزادی مل جائے تو خاوند کے مجامعت کرنے سے پہلے اس کو اپنے نفس کا اختیار ہوتا ہے۔
(ب) مالک کی روایت میں زیادتی ہے کہ اگر خاوند نے مجامعت کر لی تو پھر کوئی اختیار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14285
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقَتْ قَالَ: فَأَرْسَلَتْ إِلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ: " إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ "، قَالَتْ: فَفَارَقْتُهُ ثَلَاثًا، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا جَامَعَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا "، وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنو عدی بن کعب کی لونڈی جس کو زبراء کہا جاتا تھا، اس نے انہیں بتایا کہ وہ ایک غلام کے نکاح میں تھی اور وہ نوبی لونڈی تھی، اسے آزادی مل گئی تو اس نے نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا: میں تجھے ایک بات بتانے لگی ہوں اور مجھے پسند نہیں کہ آپ کچھ بھی کریں، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں رہے گا جب تک تیرے خاوند نے تجھ سے مجامعت نہ کر لی۔ کہتی ہیں: تو میں نے اسے تین (طلاقوں) کے ساتھ جدا کر دیا۔
(ب) ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب اس نے مجامعت کر لی تو پھر لونڈی کو اختیار نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14286
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»