السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من زعم أن زوج بريرة كان حرا يوم أعتقت باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ سیدہ بریرہ کا شوہر اس دن آزاد تھا جب وہ آزاد کی گئیں۔
حدیث نمبر: 14277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَادِلِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ فِيهِ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ الْأَسْوَدُ: " وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا ".حافظ ثناء اللہ
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ارادہ تھا کہ وہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدیں، انہوں نے حدیث کو بیان کیا، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اختیار دیا تو اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا، اسود کہتے ہیں: اس کا خاوند آزاد تھا۔