السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من زعم أن زوج بريرة كان حرا يوم أعتقت باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ سیدہ بریرہ کا شوہر اس دن آزاد تھا جب وہ آزاد کی گئیں۔
حدیث نمبر: 14282
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ لَنَا: أَيُّهُمَا تَرَوْنَ أَثْبَتُ عُرْوَةُ، أَوْ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ؟، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أَهْلُ الْحِجَازِ أَثْبَتُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُرِيدُ عَلِيٌّ رِوَايَةَ عُرْوَةَ وَأَمْثَالِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.حافظ ثناء اللہ
علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ تم عروہ یا ابراہیم کو اسود سے نقل کرنے میں کسی کو «أَثْبَتُ» ”زیادہ مستند“ جانتے ہو؟ پھر علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ اہل حجاز «أَثْبَتُ» ”زیادہ مستند“ ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عروہ کا اہل حجاز سے روایت کرنا کوفیوں سے روایت کرنے سے زیادہ صحیح ہے۔