السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من زعم أن زوج بريرة كان حرا يوم أعتقت باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ سیدہ بریرہ کا شوہر اس دن آزاد تھا جب وہ آزاد کی گئیں۔
حدیث نمبر: 14280
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُحَمَّدَ بْنَ مُوسَى الْمُقْرِئَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: خَالَفَ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ النَّاسَ فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ، فَقَالَ " إِنَّهُ حُرٌّ "، وَقَالَ النَّاسُ: " إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ اسود بن یزید نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کے بارے میں لوگوں سے مخالفت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ آزاد تھا اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ غلام تھا۔
(ب) اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی ملی تو اس وقت وہ غلام تھا اور دوسرے نے کہا کہ وہ آلِ ابی احمد کا غلام تھا۔