کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس لونڈی کا بیان جو آزاد کر دی جائے اور اس کا شوہر غلام ہو۔
حدیث نمبر: 14255
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَتُعْتِقَهَا، وَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " قَالَتْ: وَأُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " فَقَالُوا: هَذَا أَهْدَتْهُ إِلَيْنَا بَرِيرَةُ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ "، قَالَتْ: وَخُيِّرَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدُ فَقَالَ: مَا أَدْرِي أَحُرٌّ هُوَ أَمْ عَبْدٌ؟ قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِسِمَاكِ بْنِ ⦗٣٥٩⦘ حَرْبٍ: إِنِّي أَتَّقِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنِ الْإِسْنَادِ فَسَلْهُ أَنْتَ، قَالَ: وَكَانَ فِي خَلْقِهِ فَقَالَ لَهُ سِمَاكٌ بَعْدَمَا حَدَّثَ: أَحَدَّثَكَ هَذَا أَبُوكَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: نَعَمْ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ لِي سِمَاكٌ: يَا شُعْبَةُ اسْتَوْثَقْتُهُ لَكَ مِنْهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيِّ عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَأَخْرَجَهُ هُوَ، وَالْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَلَمْ يَذْكُرُوا قَوْلَ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ فَأَثْبَتَ عَنْهُ كَوْنَ زَوْجِهَا عَبْدًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگا دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“، فرماتی ہیں: بریرہ کو گوشت دیا گیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا کہ یہ گوشت بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“، کہتے ہیں: بریرہ کو اختیار دیا گیا اور ان کا خاوند آزاد تھا، شعبہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے ان سے سوال کیا تو فرمانے لگے: میں نہیں جانتا کہ وہ آزاد تھے یا غلام؟ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک بن حرب سے کہا: میں سند کے بارے میں سوال کرنے سے بچتا ہوں، آپ سوال کریں، تو سماک نے پوچھا کہ کیا آپ کے والد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا؟ تو کہنے لگے: ہاں، شعبہ کہتے ہیں: جب سماک جانے لگے تو فرمایا کہ میں نے توثیق بیان کر دی ہے۔
(ب) سماک بن حرب، حضرت عبدالرحمن بن قاسم سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا خاوند غلام ہی تھا۔
(ب) سماک بن حرب، حضرت عبدالرحمن بن قاسم سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا خاوند غلام ہی تھا۔
حدیث نمبر: 14256
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانَ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ بْنِ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي جَدِّي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ "، قَالَتْ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصاری لوگوں سے بریرہ کو خرید لیا تو انہوں نے ولاء کی شرط رکھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اس کے لیے ہے جو آزادی کا والی بنا۔“ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا اور اس کا خاوند غلام تھا، اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت ہدیہ میں دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ گوشت ہمارے لیے پکاؤ۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
حدیث نمبر: 14257
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حدیث نمبر: 14258
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ بَرِيرَةُ مُكَاتِبَةً لِأُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْوَلَاءِ وَفِي الْهَدِيَّةِ، قَالَتْ: كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، فَلَمَّا عَتَقَتْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتِ تَقَرَّينَ تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ تُفَارِقِينَهُ "، ⦗٣٦٠⦘ هَذَا يُؤَكِّدُ رِوَايَةَ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَقَدْ قِيلَ عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ مُخْتَصَرًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے انصاری لوگوں سے مکاتبت کی تھی۔ اس نے حدیث کو بیان کیا ولاء تک اور ہدیہ کے بارے میں۔ فرماتی ہیں: وہ غلام کے نکاح میں تھی، جب بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو اختیار دیا کہ ”غلام کے نکاح میں رہنا چاہیے یا جدا ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 14259
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي الشَّيْخِ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کا خاوند غلام تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو اختیار دے دیا، اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا، اگر اس کا شوہر آزاد ہوتا تو آپ ﷺ اس کو اختیار نہ دیتے۔
حدیث نمبر: 14260
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: ثنا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند غلام تھا۔
حدیث نمبر: 14261
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ بَرِيرَةُ عِنْدَ عَبْدٍ فَعَتَقَتْ، " فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا "، ⦗٣٦١⦘ وَرَوَاهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا غلام کے نکاح میں تھیں، وہ آزاد ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا معاملہ ان کے ہاتھ میں دے دیا۔
حدیث نمبر: 14262
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا شَاذَانُ بْنُ مَاهَانَ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَيَّرَهَا وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا ".
حافظ ثناء اللہ
عمرہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا جب اس کا خاوند غلام تھا۔
حدیث نمبر: 14263
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الرُّصَافَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ، يُسَمَّى مُغِيثًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَسْعَى فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند سیاہ رنگ کا غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا؛ گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ مدینہ کی گلیوں میں چکر کاٹ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 14264
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا جَعْفَرٌ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ اسْمُهُ مُغِيثٌ قَالَ: فَكَأَنِّي أُرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ فَقَالَ: " إِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَخَيَّرَهَا، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ " قَالَ: " وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا لِعَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، وَهَمَّامٍ مُخْتَصَرًا قَالَ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند سیاہ رنگ کا غلام تھا، جس کا نام مغیث تھا۔ وہ کہتے ہیں: میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں آنسو بہاتا پھر رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں چار فیصلے فرمائے: (۱) ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے، (۲) بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا، (۳) اور عدت گزارنے کا حکم فرمایا، (۴) بریرہ رضی اللہ عنہا پر گوشت صدقہ کیا گیا جو اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ میں دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ» ”اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
(ب) ابو ولید، شعبہ اور ہمام سے مختصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو غلام دیکھا تھا۔
(ب) ابو ولید، شعبہ اور ہمام سے مختصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو غلام دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 14265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدٌ لِبَنِي فُلَانٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي عَلَيْهَا " يَعْنِي بَرِيرَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مغیث بنو فلاں کا غلام تھا، میں مغیث کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں روتا پھر رہا ہے۔
حدیث نمبر: 14266
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗٣٦٢⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ عَبْدٌ لِبَنِي فُلَانٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر سیاہ رنگ کا غلام تھا۔ اس کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا، جو بنو فلاں کا غلام تھا۔ گویا میں مغیث کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتا پھر رہا ہے۔
حدیث نمبر: 14267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا بُنْدَارٌ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ الدُّورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا: أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا؟ "، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ تَأْمُرُنِي؟، قَالَ: " لَا، إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ "، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند غلام تھا، جس کو مغیث کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتا پھر رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں۔ نبی ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا مغیث کی محبت جو بریرہ کے ساتھ ہے اور بریرہ کا مغیث سے بغض، اس سے آپ تعجب کرتے ہیں؟“ پھر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاؤ تو یہ آپ کے بچوں کا باپ ہے۔“ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ کہتی ہیں: پھر مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14268
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْعَلَاءِ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخَازِنُ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔
حدیث نمبر: 14269
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند غلام تھا جس کو سیدنا مغیث رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 14270
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا "، هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند غلام تھے۔
حدیث نمبر: 14271
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا تُخَيَّرُ إِذَا عَتَقَتْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَوْجُهَا عَبْدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لونڈی کو آزادی کے بعد صرف اسی صورت میں اختیار دیا جاتا ہے جب اس کا خاوند غلام ہو۔
حدیث نمبر: 14272
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا ابْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَ لَهَا غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَعْتَقْتِهِمَا فَابْدَئِي بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ "، ابْنُ مَوْهَبٍ هُوَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ تَفَرَّدَ بِهِ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَ بِالْبِدَايَةِ بِالرَّجُلِ، لِأَنْ لَا يَكُونَ لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام اور لونڈی میاں بیوی تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں ان کو آزاد کرنا چاہتی ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر آزاد کرنے کا ارادہ ہے تو پہلے مرد کو آزاد کرو، عورت کو بعد میں آزاد کرنا۔“
حدیث نمبر: 14273
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ: " إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَعَتَقَا جَمِيعًا فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِنْ عَتَقَتْ قَبْلَهُ وَسَكَتَتْ حَتَّى عَتَقَ زَوْجُهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا أَيْضًا "، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
اہلِ مدینہ کے فقہاء جن کا قول معتبر ہے فرماتے ہیں: جب لونڈی غلام کے نکاح میں ہو اور دونوں کو اکٹھے آزادی ملے تو عورت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر لونڈی کو پہلے آزادی ملی اور وہ خاموش رہی اور اس کے خاوند کو بھی آزادی مل گئی تب بھی اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔