کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ مِنْ لَفْظِهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، جَمِيعًا عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، ⦗١٧٩⦘ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيدَتَهُ - وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: وَلِيَّتَهُ - فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمَثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلَانٍ اسْتَبْضِعِي مِنْهُ، وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا، وَلَا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي يَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلَهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِنْ أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الِاسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ فِيهِ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشَرَةِ، فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا، فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّ لَيَالِي بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا، فَتَقُولُ لَهُمْ: قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ وَقَدْ وَلَدْتُ وَهَذَا ابْنُكَ يَا فُلَانُ، فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ، فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، وَالنِّكَاحُ الرَّابِعُ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ، فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ، لَا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا، وَهُنَّ الْبَغَايَا هُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ يَكُنَّ عَلَمًا لِمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ، فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جَمَعُوا لَهَا، وَدَعُوا لَهُمُ الْقَافَةَ، ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ، فَالْتَطَاهُ وَدَعِيُّ ابْنِهِ، لَا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ أَبْطَلَ وَهَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ، إِلَّا نِكَاحَ الْإِسْلَامِ الْيَوْمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ، قَالَ: وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے: ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں، ایک شخص دوسرے کے پاس اس کی زیرِ پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے ہاں نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرتا۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہتا جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی کہ: ”تو فلاں کے پاس چلی جا اور اس سے وطی کر۔“ اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے ہاتھ تک نہ لگاتا، پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے وہ عارضی طور پر محبت کرتی تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا، ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کا بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو۔ یہ نکاح «نِکَاحُ الِاسْتِبْضَاعِ» ”نکاح استبضاع“ کہلاتا تھا۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے، پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضعِ حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان عام مردوں کو بلاتی۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا تھا، چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہو جاتے، وہ کہتی: ”اے فلاں! یہ بچہ تمہارا ہے“، وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا۔ وہ شخص اس (بات) سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ چوتھا نکاح یوں تھا کہ بہت سی عورتیں (زنا کے عوض پیسے لینے والی) ہوتی تھیں، اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رکھتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے، جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا، اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچے کا ناک نقشہ اور وضع قطع جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کر دیتے اور وہ بچہ اس کا بیٹا کہا جاتا۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا، پھر جب محمد ﷺ حق کے ساتھ رسول بن کر مبعوث ہوئے تو آپ ﷺ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا اور صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْهَا الْوَلِيُّ، أَوِ الْوُلَاةُ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی عورت جس کا نکاح ولی نہ کریں (اور وہ اپنا نکاح خود کر لے) تو اس کا نکاح باطل ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " رَدَّ نِكَاحَ امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کا نکاح مردود قرار دیا، جس نے ولی کے بغیر نکاح کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَمَعْتُ الطَّرِيقَ رَكْبًا، " فَجَعَلَتِ امْرَأَةٌ ثَيِّبٌ أَمْرَهَا بِيَدِ رَجُلٍ غَيْرِ وَلِيٍّ فَأَنْكَحَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَلَدَ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ، وَرَدَّ نِكَاحَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ راستے میں کچھ سوار جمع ہوئے تو ان میں سے ایک بیوہ عورت نے اپنا ہاتھ ولی کے علاوہ دوسرے کو دیا کہ وہ اس کا نکاح کر دے تو اس نے اس کا نکاح کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے دونوں کو کوڑے لگائے اور دونوں کا نکاح مردود قرار دے دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا ⦗١٨٠⦘ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَوِ السُّلْطَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنا نکاح اپنے ولی کی اجازت سے یا اپنے خاندان یا سلطان کی مشاورت سے کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ مُقَرِّنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذَنْ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، لَا نِكَاحَ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيٍّ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَسَانِيدَ أُخَرَ، وَإِنْ كَانَ الِاعْتِمَادُ عَلَى هَذَا دُونَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس عورت نے بھی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر کیا اس کا نکاح باطل ہے، نکاح صرف ولی کی اجازت سے ہے۔
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ بْنُ رَجَاءٍ الثَّرَارَنِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْمُغَازِيُّ الطَّبَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحًا، وَمَسْرُوقًا رَحِمَهُمَا اللهُ، قَالُوا: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما، شریح اور مسروق رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللهِ، وَشُرَيْحٌ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما اور شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى كَانَ يَضْرِبُ فِيهِ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے شعبی سے روایت ہے کہ اصحابِ رسول ﷺ میں سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میں کوئی سخت نہ تھا، یہاں تک کہ وہ اس معاملے میں حد نافذ کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّيِّسُ بِالرِّيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ ⦗١٨١⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، وَعُبَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْفَرَّاءُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَلَا نِكَاحَ إِلَّا بِشُهُودٍ " رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَقَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " وَهَذَا شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ مُجَالِدٍ، وَرُوِّينَاهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ولی اور گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح نہیں ہوتا۔ ہارون والی روایت میں ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر اور دو عادل گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيٍّ، فَمَنْ نَكَحَ أَوْ أَنْكَحَ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيٍّ فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ " وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَجَازَ إِنْكَاحَ الْخَالِ أَوِ الْأُمِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جس نے ولی کے بغیر نکاح کیا یا کروایا تو اس کا نکاح باطل ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ماموں اور ماں کے (ولی بن کر) نکاح کروانے کو جائز قرار دیا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ماموں اور ماں کے (ولی بن کر) نکاح کروانے کو جائز قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدِ بْنِ النَّجَّارِ بِالْكُوفَةِ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَجَازَ نِكَاحَ الْخَالِ، هَكَذَا قَالَ: الْخَالُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ماموں کا نکاح کروانے کو جائز قرار دیا ہے۔
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ " أَجَازَ نِكَاحَ امْرَأَةٍ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا بِرِضًا مِنْهَا " أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس عورت کے نکاح کو جائز قرار دیا جس کی والدہ نے اس کا نکاح اس کی رضا مندی سے کیا تھا۔
وَقَدْ قِيلَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ عَائِذِ اللهِ يُقَالُ لَهَا سَلَمَةُ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا وَأَهْلُهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ قَدْ دَخَلَ بِهَا؟ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ " أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ الشَّيْبَانِيُّ فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ بَحْرِيَّةَ بِنْتِ هَانِئِ بْنِ قَبِيصَةَ، أَنَّهَا ⦗١٨٢⦘ زَوَّجَتْ نَفْسَهَا بِالْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ وَبَاتَ عِنْدَهَا لَيْلَةً، وَجَاءَ أَبُوهَا فَاسْتَعْدَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَدَخَلْتَ بِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَأَجَازَ النِّكَاحَ، وَهَذَا الْأَثَرُ مُخْتَلَفٌ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ وَمَدَارُهُ عَلَى أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي عَدَالَتِهِ وَبَحْرِيَّةُ مَجْهُولَةٌ، وَاشْتِرَاطُ الدُّخُولِ فِي تَصْحِيحِ النِّكَاحِ، إِنْ كَانَ ثَابِتًا وَالدُّخُولُ لَا يُبِيحُ الْحَرَامَ، وَالْإِسْنَادُ الْأَوَّلُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي اشْتِرَاطِ الْوَلِيِّ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، فَالِاعْتِمَادُ عَلَيْهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قیس اودی سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کا نام سلمہ تھا اس کا نکاح اس کی ماں نے کیا تو یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے کہا: کیا اس کے پاس اس کا خاوند نہیں گیا؟ انہوں نے کہا: جی چلا گیا، تو انہوں نے نکاح کو جائز قرار دیا۔
(ب) بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قعقاع بن شور سے خود نکاح کیا اور اپنے خاوند کے پاس رات گزاری، ان کے باپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے معاملہ پیش کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا ان کا خاوند ان کے پاس گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔ یہ اثر مختلف اسناد اور متون سے وارد ہے اور اس کا انحصار قیس بن اودی پر ہے، اس کے عادل ہونے میں اختلاف ہے اور بحریہ مجہولہ ہے۔ دخول کی شرط تب نکاح کے صحیح ہونے کا باعث بنتی اگر یہ موقوف حدیث ثابت ہوتی۔ دخول حرام کو حلال نہیں بنا سکتا، پہلی حدیث جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہے جس میں ولی کی شرط ہے صحیح ہے وہی قابل اعتماد ہے۔
(ب) بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قعقاع بن شور سے خود نکاح کیا اور اپنے خاوند کے پاس رات گزاری، ان کے باپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے معاملہ پیش کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا ان کا خاوند ان کے پاس گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔ یہ اثر مختلف اسناد اور متون سے وارد ہے اور اس کا انحصار قیس بن اودی پر ہے، اس کے عادل ہونے میں اختلاف ہے اور بحریہ مجہولہ ہے۔ دخول کی شرط تب نکاح کے صحیح ہونے کا باعث بنتی اگر یہ موقوف حدیث ثابت ہوتی۔ دخول حرام کو حلال نہیں بنا سکتا، پہلی حدیث جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہے جس میں ولی کی شرط ہے صحیح ہے وہی قابل اعتماد ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ مُرْشِدٍ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: ”سمجھ دار ولی اور دو عادل گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح نہیں۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا شُجَاعٌ، ثنا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِشَام وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ " إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا هِيَ الزَّانِيَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) فرماتے تھے کہ: ”وہ عورت جو اپنا نکاح خود کرتی ہے وہ زانیہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُخْطَبُ إِلَيْهَا الْمَرْأَةُ مِنْ أَهْلِهَا، فَتُشْهِدُ، فَإِذَا بَقِيَتْ عُقْدَةُ النِّكَاحِ قَالَتْ لِبَعْضِ أَهْلِهَا: " زَوِّجْ، فإِنَّ الْمَرْأَةَ لَا تَلِي عَقْدَ النِّكَاحِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ هَذَا الْأَثَرُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
قاسم کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے خاندان کی عورتوں کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا جاتا تو وہ اس پر گواہ بنتیں، جب عقد نکاح کی باری آتی تو اپنے خاندان والوں سے کہتیں کہ تم نکاح کرو؛ کیونکہ عورت عقد نکاح منعقد نہیں کر سکتی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اثر «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“ پر دال ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اثر «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“ پر دال ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا " زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: مِثْلِي يُصْنَعُ هَذَا بِهِ وَيُفْتَاتُ عَلَيْهِ؟ فَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ الْمُنْذِرُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا كُنْتُ لِأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِهِ، فَقَرَّتْ حَفْصَةُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ "، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا، إِنَّمَا أُرِيدَ بِهِ أَنَّهَا مَهَّدَتْ تَزْوِيجَهَا، ثُمَّ تَوَلَّى عَقْدَ النِّكَاحِ غَيْرُهَا، فَأُضِيفَ التَّزْوِيجُ إِلَيْهَا لِإِذْنِهَا فِي ذَلِكَ وَتَمْهِيدِهَا أَسْبَابَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے حفصہ بنت عبد الرحمن کی شادی منذر بن زبیر سے کی اور عبد الرحمن شام میں موجود نہیں تھے، جب عبد الرحمن تشریف لائے تو کہا: اس طرح کیا جاتا ہے؟ وہ جوان ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے منذر بن زبیر کو جواب دیا، منذر نے کہا: یہ معاملہ تو عبد الرحمن کے سپرد ہے، عبد الرحمن نے کہا: آپ نے جو فیصلہ کر دیا میں اس کو رد نہیں کروں گا۔ تو حفصہ منذر کے پاس رہیں اور یہ طلاق نہیں تھی، اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نکاح کے لیے رہنمائی کی۔ پھر عقد نکاح کسی اور نے منعقد کروایا تو تزویج کی نسبت ان کی طرف اس اجازت اور رہنمائی کی وجہ ہے۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ تَابِعِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " لَا تَعْقِدُ امْرَأَةٌ عُقْدَةَ النِّكَاحِ فِي نَفْسِهَا، وَلَا فِي غَيْرِهَا "، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ کے فقہا کہا کرتے تھے کہ عورت نہ اپنا اور نہ کسی دوسری عورت کا عقد نکاح منعقد کر سکتی ہے۔