السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا " زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: مِثْلِي يُصْنَعُ هَذَا بِهِ وَيُفْتَاتُ عَلَيْهِ؟ فَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ الْمُنْذِرُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا كُنْتُ لِأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِهِ، فَقَرَّتْ حَفْصَةُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ "، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا، إِنَّمَا أُرِيدَ بِهِ أَنَّهَا مَهَّدَتْ تَزْوِيجَهَا، ثُمَّ تَوَلَّى عَقْدَ النِّكَاحِ غَيْرُهَا، فَأُضِيفَ التَّزْوِيجُ إِلَيْهَا لِإِذْنِهَا فِي ذَلِكَ وَتَمْهِيدِهَا أَسْبَابَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے حفصہ بنت عبد الرحمن کی شادی منذر بن زبیر سے کی اور عبد الرحمن شام میں موجود نہیں تھے، جب عبد الرحمن تشریف لائے تو کہا: اس طرح کیا جاتا ہے؟ وہ جوان ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے منذر بن زبیر کو جواب دیا، منذر نے کہا: یہ معاملہ تو عبد الرحمن کے سپرد ہے، عبد الرحمن نے کہا: آپ نے جو فیصلہ کر دیا میں اس کو رد نہیں کروں گا۔ تو حفصہ منذر کے پاس رہیں اور یہ طلاق نہیں تھی، اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نکاح کے لیے رہنمائی کی۔ پھر عقد نکاح کسی اور نے منعقد کروایا تو تزویج کی نسبت ان کی طرف اس اجازت اور رہنمائی کی وجہ ہے۔ واللہ اعلم۔