السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
وَقَدْ قِيلَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ عَائِذِ اللهِ يُقَالُ لَهَا سَلَمَةُ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا وَأَهْلُهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ قَدْ دَخَلَ بِهَا؟ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ " أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ الشَّيْبَانِيُّ فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ بَحْرِيَّةَ بِنْتِ هَانِئِ بْنِ قَبِيصَةَ، أَنَّهَا ⦗١٨٢⦘ زَوَّجَتْ نَفْسَهَا بِالْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ وَبَاتَ عِنْدَهَا لَيْلَةً، وَجَاءَ أَبُوهَا فَاسْتَعْدَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَدَخَلْتَ بِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَأَجَازَ النِّكَاحَ، وَهَذَا الْأَثَرُ مُخْتَلَفٌ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ وَمَدَارُهُ عَلَى أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي عَدَالَتِهِ وَبَحْرِيَّةُ مَجْهُولَةٌ، وَاشْتِرَاطُ الدُّخُولِ فِي تَصْحِيحِ النِّكَاحِ، إِنْ كَانَ ثَابِتًا وَالدُّخُولُ لَا يُبِيحُ الْحَرَامَ، وَالْإِسْنَادُ الْأَوَّلُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي اشْتِرَاطِ الْوَلِيِّ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، فَالِاعْتِمَادُ عَلَيْهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.ابو قیس اودی سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کا نام سلمہ تھا اس کا نکاح اس کی ماں نے کیا تو یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے کہا: کیا اس کے پاس اس کا خاوند نہیں گیا؟ انہوں نے کہا: جی چلا گیا، تو انہوں نے نکاح کو جائز قرار دیا۔
(ب) بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قعقاع بن شور سے خود نکاح کیا اور اپنے خاوند کے پاس رات گزاری، ان کے باپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے معاملہ پیش کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا ان کا خاوند ان کے پاس گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔ یہ اثر مختلف اسناد اور متون سے وارد ہے اور اس کا انحصار قیس بن اودی پر ہے، اس کے عادل ہونے میں اختلاف ہے اور بحریہ مجہولہ ہے۔ دخول کی شرط تب نکاح کے صحیح ہونے کا باعث بنتی اگر یہ موقوف حدیث ثابت ہوتی۔ دخول حرام کو حلال نہیں بنا سکتا، پہلی حدیث جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہے جس میں ولی کی شرط ہے صحیح ہے وہی قابل اعتماد ہے۔