کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس دلیل کی بنیاد پر کہ نکاح کے معاملے میں وصی کو ولایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13655
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا، فَإِنْ نُكِحَتْ، فَهُوَ بَاطِلٌ، فَهُوَ بَاطِلٌ، فَهُوَ بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا، فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ تَشَاجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے نکاح کر لیا تو وہ باطل ہوگا، باطل ہوگا، باطل ہوگا۔ اگر اس نے دخول کر لیا تو عورت کے لیے حق مہر ہوگا اس سے جماع کرنے کی وجہ سے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو سلطان ولی ہوگا، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13655
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13656
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ⦗١٨٤⦘ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ قَالَ: وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَهُمَا خَالِايَ قَالَ: خَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ابْنَةَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَزَوَّجَنِيهَا، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أُمِّهَا، فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ، وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا، فَأَبَتَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ: ابْنَةُ أَخِي أَوْصَى بِهَا إِلِيَّ، فَزَوَّجْتُهَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا فِي الصَّلَاحِ، وَلَا فِي الْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ، وَإِنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ يَتِيمَةٌ وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا " قَالَ: فَانْتُزِعَتْ وَاللهِ مِنِّي بَعْدَ مَا مُلِّكْتُهَا، وَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو انہوں نے خویلہ بنت حکم بن امیہ بن حارثہ بن اوس بیٹی چھوڑی اور اپنے بھائی قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو وصیت کی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: وہ دونوں میرے ماموں ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کی طرف عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے ساتھ منگنی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے میری اس کے ساتھ شادی کر دی تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی ماں کے پاس گئے تو انہیں اپنی طرف قائل کیا (یعنی اس لڑکی کی شادی ان سے کر دیں) تو لڑکی ماں کی محبت اور خواہش کی طرف قائل ہو گئی تو ان دونوں (لڑکی اور ماں) نے (مجھ سے) انکار کر دیا یہاں تک کہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ راوی کہتا ہے کہ قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بھتیجی کے متعلق میرے چچا نے وصیت کی تو میں نے اس کی شادی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کر دی تو میں نے اس کی اصلاح اور تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن عورت (یعنی اس لڑکی کی ماں) اور یہ لڑکی اپنی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ یتیم بچی ہے اس کا نکاح اس کی اجازت سے کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس لڑکی کو ان سے جدا کر دیا گیا، جبکہ میں اس کا مالک بن چکا تھا اور انہوں نے اس کی شادی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13656
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»