کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بیان میں کہ جب بالغ اور آزاد عورتیں جن کے شوہر نہ ہوں، نکاح کا ارادہ کریں اور اپنے لیے پسندیدہ اور مناسب رشتوں کی طرف بلائیں تو ان کے سرپرستوں (ولیوں) پر حتمی طور پر لازم ہے کہ وہ ان کا نکاح کر دیں۔
حدیث نمبر: 13594
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: 232].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔“ [سورة البقرة: 232]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13594
حدیث نمبر: 13594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّرْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، وَالْفَرَّاءُ يعنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَقَطَنٌ، قَالُوا: ثنا حَفْصٌ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: ٢٣٢] الْآيَةَ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ: كُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللهِ لَا تَعُودُ إِلَيْهَا أَبَدًا، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ هَذِهِ الْآيَةَ، فَقُلْتُ: الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن حسن اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے اپنی بہن کی شادی ایک آدمی سے کی۔ اس نے اس کو طلاق دے دی، یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوگئی۔ پھر وہ آیا، اس نے دوبارہ پھر شادی کا پیغام دیا۔ میں نے اس کو کہا کہ میں نے تیری اس سے شادی کی اور تیرے لیے شب باشی کا انتظام کیا اور تیری عزت کی، تم نے اس کو طلاق دے دی پھر تو آگیا شادی کا پیغام لے کر۔ اللہ کی قسم! میں اس سے تیری شادی ہرگز نہیں کروں گا، اس آدمی نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ حالانکہ عورت کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے خاوند کی طرف لوٹ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اب میں اس کی شادی کر دوں گا اور میں نے اس کی شادی کر دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13594
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 4529»
حدیث نمبر: 13595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَبُنْدَارٌ قَالَا: ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، ثنا الْحَسَنُ أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَتْ أُخْتُهُ عِنْدَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ تَخَلَّى عَنْهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ قَرُبَ يَخْطُبُهَا، فَحَمَى مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ أَنْفًا قَالَ: خَلِّ عَنْهَا وَهُوَ يَقْدِرُ، ثُمَّ قَرُبَ يَخْطُبُهَا، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ، فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: ٢٣٢] الْآيَةَ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ، فَتَرَكَ الْحَمِيَّةَ، ثُمَّ اسْتَقَادَ لِأَمْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَزَعَمَ الْكَلْبِيُّ أَنَّ أُخْتَهُ جَمِيلَةُ بِنْتُ يَسَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن ایک شخص کے نکاح میں تھی، اس نے انہیں طلاق دے دی پھر اس کو چھوڑ دیا، جب اس کی عدت گزر گئی تو وہ قریب آیا اور اسے پیغامِ نکاح دیا، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے غیرت کھائی اور کہا: پہلے اس نے علیحدگی اختیار کر لی تھی حالانکہ یہ رجوع کر سکتا تھا، اب یہ دوبارہ پیغامِ نکاح لے آیا ہے، وہ ان دونوں کے درمیان حائل ہو گئے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] انہیں رسول اللہ ﷺ نے بلایا اور یہ آیت تلاوت کی، پھر انہوں نے غیرت کو چھوڑ دیا اور ان کا عقد کروا دیا، کلبی کا گمان ہے کہ ان کی بہن کا نام جمیل بنت یسار تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13595
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»