السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ مِنْ لَفْظِهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، جَمِيعًا عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، ⦗١٧٩⦘ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيدَتَهُ - وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: وَلِيَّتَهُ - فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمَثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلَانٍ اسْتَبْضِعِي مِنْهُ، وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا، وَلَا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي يَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلَهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِنْ أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الِاسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ فِيهِ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشَرَةِ، فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا، فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّ لَيَالِي بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا، فَتَقُولُ لَهُمْ: قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ وَقَدْ وَلَدْتُ وَهَذَا ابْنُكَ يَا فُلَانُ، فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ، فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، وَالنِّكَاحُ الرَّابِعُ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ، فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ، لَا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا، وَهُنَّ الْبَغَايَا هُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ يَكُنَّ عَلَمًا لِمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ، فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جَمَعُوا لَهَا، وَدَعُوا لَهُمُ الْقَافَةَ، ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ، فَالْتَطَاهُ وَدَعِيُّ ابْنِهِ، لَا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ أَبْطَلَ وَهَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ، إِلَّا نِكَاحَ الْإِسْلَامِ الْيَوْمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ، قَالَ: وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ فَذَكَرَهُ.ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے: ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں، ایک شخص دوسرے کے پاس اس کی زیرِ پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے ہاں نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرتا۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہتا جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی کہ: ”تو فلاں کے پاس چلی جا اور اس سے وطی کر۔“ اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے ہاتھ تک نہ لگاتا، پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے وہ عارضی طور پر محبت کرتی تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا، ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کا بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو۔ یہ نکاح «نِکَاحُ الِاسْتِبْضَاعِ» ”نکاح استبضاع“ کہلاتا تھا۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے، پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضعِ حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان عام مردوں کو بلاتی۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا تھا، چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہو جاتے، وہ کہتی: ”اے فلاں! یہ بچہ تمہارا ہے“، وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا۔ وہ شخص اس (بات) سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ چوتھا نکاح یوں تھا کہ بہت سی عورتیں (زنا کے عوض پیسے لینے والی) ہوتی تھیں، اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رکھتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے، جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا، اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچے کا ناک نقشہ اور وضع قطع جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کر دیتے اور وہ بچہ اس کا بیٹا کہا جاتا۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا، پھر جب محمد ﷺ حق کے ساتھ رسول بن کر مبعوث ہوئے تو آپ ﷺ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا اور صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔