السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 13639
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَمَعْتُ الطَّرِيقَ رَكْبًا، " فَجَعَلَتِ امْرَأَةٌ ثَيِّبٌ أَمْرَهَا بِيَدِ رَجُلٍ غَيْرِ وَلِيٍّ فَأَنْكَحَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَلَدَ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ، وَرَدَّ نِكَاحَهَا ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ راستے میں کچھ سوار جمع ہوئے تو ان میں سے ایک بیوہ عورت نے اپنا ہاتھ ولی کے علاوہ دوسرے کو دیا کہ وہ اس کا نکاح کر دے تو اس نے اس کا نکاح کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے دونوں کو کوڑے لگائے اور دونوں کا نکاح مردود قرار دے دیا۔