کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: کسی قوم کا صدقہ ان کے شہر سے باہر نہیں نکالا جائے گا جبکہ ان کے شہر میں اس کے مستحق موجود ہوں
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ ⦗١٣⦘ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُوسَى عَنْ وَكِيعٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! تو اہل کتاب کے پاس جا رہا ہے، سب سے پہلے ان کو اللہ کی وحدانیت اور نبی ﷺ کی رسالت کی دعوت دینی ہے۔ اگر وہ اس کو قبول کر لیں تو پھر ان کو بتانا کہ اللہ پاک نے ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس بات کو بھی قبول کر لیں تو پھر ان کو یہ بتانا ہے کہ اللہ پاک نے تم پر تمہارے مالوں میں سے صدقہ فرض کیا ہے، جو مال دار لوگوں سے لیا جائے گا اور غریب لوگوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو پھر ان کے قیمتی مال سے بچنا ہے اور مظلوم کی بددعا سے بھی بچ؛ کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ هَذَا" الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدُ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ: " سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟، فَقَالَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللهَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِصَوْمِ هَذَا الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتُقْسَمَ عَلَى فُقَرَائِنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ" ⦗١٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک آدمی اونٹ پر آیا، اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا پھر اس کو باندھ دیا۔ پھر ان لوگوں کو کہا کہ تم میں سے محمد ﷺ کون ہیں؟ اور آپ ﷺ ہمارے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، ہم نے اس کو کہا کہ یہ سفید آدمی جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ پھر اس آدمی نے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں جواب دیا ہے۔“ اس آدمی نے کہا کہ اے محمد ﷺ! میں تم سے کچھ سوال کروں گا، دوران سوال اگر آپ کو کوئی بات گراں گزرے تو برا محسوس نہ کرنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی سوال کرنا ہے کرو۔“ اس نے کہا کہ میں تجھے تیرے رب اور جو تجھ سے پہلے لوگوں کے رب ہیں کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے تم کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں بالکل۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھیں؟ فرمایا: ”ہاں بالکل۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال میں ایک مہینے کے روزے رکھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال دار لوگوں سے صدقہ وصول کریں اور غریبوں میں تقسیم کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو آخر کار اس نے کہا کہ میں اس چیز پر ایمان لے آیا ہوں، جو چیز آپ لے کر آئے ہیں اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو یہ پیغام دوں گا اور میں ضمام بن ثعلبہ بنو سعد بن بکر کا بھائی ہوں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بُعِثَ إِلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالُوا لَهُ: أَيْنَ الْمَالُ؟ قَالَ: " وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتُمُونِي أَخَذْنَاهَا مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعْنَاهَا حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی میمونہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو صدقہ کے لیے بھیجا گیا۔ جب وہ لوٹے تو لوگوں نے کہا کہ مال کہاں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ مال کے لیے تم نے مجھے بھیجا تھا؟ وہ تو ہم نے ان سے لیا جن سے نبی ﷺ کے دور میں لیتے تھے اور ان کو دے دیا جن کو ہم آپ ﷺ کے دور میں دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقَرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا سَاعِيًا، فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَوَضَعَهَا فِي فُقَرَائِنَا وَأَمَرَ لِي بِقَلُوصٍ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِأَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم میں نبی ﷺ نے صدقہ لینے والے کو بھیجا تو اس نے مال دار لوگوں سے صدقہ لیا اور فقیر لوگوں میں تقسیم کیا اور آپ ﷺ نے مجھے اونٹنی دینے کا حکم دیا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَيَقْسِمَهَا فِي فُقَرَائِنَا، وَكُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا لَا مَالَ لِي فَأَعْطَانِي مِنْهَا قَلُوصًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے صدقہ وصول کرنے والے کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا تو اسے حکم دیا کہ ”وہ مال دار لوگوں سے صدقہ لے اور غریب لوگوں میں تقسیم کرے“ اور میں یتیم لڑکا تھا، میرے پاس مال نہیں تھا، آپ ﷺ نے مجھے اونٹنی عطا کرنے کا حکم دیا۔
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأنبأ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى " أَيُّمَا رَجُلٍ انْتَقَلَ مِنْ مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ إِلَى غَيْرِ مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ، فَعُشْرُهُ وَصَدَقَتُهُ إِلَى مِخْلَافِ عَشِيرَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کسی ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے (اپنا صدقہ اور زکوۃ وغیرہ) اپنے ضلع سے دوسرے ضلع کے رشتہ داروں میں منتقل کر دیا تھا کہ اس کا عشر اور صدقہ ضلع کے رشتہ داروں کے لیے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " لَا تَخْرُجُ الزَّكَاةُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ، إِلَّا لِذِي قَرَابَةٍ " مَوْقُوفٌ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قریبی رشتہ داروں کے سوا (کسی اور کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر زکاۃ منتقل نہیں کی جائے گی۔)“