السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: من قال: لا يخرج صدقة قوم منهم من بلدهم وفي بلدهم من يستحقها باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: کسی قوم کا صدقہ ان کے شہر سے باہر نہیں نکالا جائے گا جبکہ ان کے شہر میں اس کے مستحق موجود ہوں
حدیث نمبر: 13139
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقَرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا سَاعِيًا، فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَوَضَعَهَا فِي فُقَرَائِنَا وَأَمَرَ لِي بِقَلُوصٍ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِأَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.حافظ ثناء اللہ
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم میں نبی ﷺ نے صدقہ لینے والے کو بھیجا تو اس نے مال دار لوگوں سے صدقہ لیا اور فقیر لوگوں میں تقسیم کیا اور آپ ﷺ نے مجھے اونٹنی دینے کا حکم دیا۔
یہ حدیث اشعث بن سوار کے واسطے سے معروف ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔