کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے صدقہ ان اصناف میں سے صرف ایک ہی صنف کو دیا
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ: " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ، فَادْعُهُمْ أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”تو ایسی قوم کے پاس جا رہا ہے جو اہل کتاب ہیں، جب تو ان کے پاس جائے تو ان کو اس چیز کی دعوت دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو پھر ان کو بتاؤ کہ تم پر ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو پھر بتاؤ کہ اللہ پاک نے تم پر صدقہ بھی فرض کیا ہے، جو امیر لوگوں سے لیا جائے گا اور غریبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اگر وہ اس بات کو بھی قبول کر لیں تو ان کے قیمتی مال سے بچنا اور مظلوم کی بددعا سے بھی بچنا؛ کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13128
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا ابْنُ جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗١١⦘ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كِدْتُ أَنْ أُقْتَلَ بَعْدَكَ فِي عَنَاقٍ أَوْ شَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنَّهَا تُعْطَى فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ مَا أَخَذْتُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ہلال ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: قریب تھا کہ آپ کے بعد مجھے صدقہ کی ایک بکری کے بچے یا بکری کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا: ”اگر وہ مہاجر فقراء کو نہ دیا جاتا ہوتا تو میں اس سے صدقہ نہ لیتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13129
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: " إِذَا أَعْطَى الرَّجُلُ الصَّدَقَةَ صِنْفًا وَاحِدًا مِنَ الْأَصْنَافِ الثَّمَانِيَةِ أَجْزَأَهُ " وَعَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطَاءٍ بِنَحْوِهِ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آدمی آٹھ اصناف میں سے کسی ایک ہی صنف کو صدقہ دے دے تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13130
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنِ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ، وَحَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ " أتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِصَدَقَةِ زَكَاةٍ، فَأَعْطَاهَا أَهْلَ بَيْتٍ كَمَا هِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت شقیق بن سلمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس زکوۃ کا مال لایا گیا، تو انہوں نے اسی طرح ایک گھر والوں کو دے دیا جیسے ان کے پاس آیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13131
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
وبِهَذَا الْإِسْنَادِ ثنا الْحَسَنُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُمَا لَمْ يَكُونَا يَرَيَانِ بِهَذَا بَأْسًا وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
اسی سند سے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ وہ دونوں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
اسے لیث بن ابی سلیم نے عطاء کے واسطے سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہ منقطع ہے، اور حسن بن عمارہ متروک ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13132
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ} [التوبة: ٦٠] قَالَ: " يَجْزِيكَ أَنْ تَجْعَلَهَا فِي صِنْفٍ وَاحِدٍ مِنْ هَذِهِ الْأَصْنَافِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ مِنْ قَوْلِهِ، وَرَوَاهُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ...﴾ [سورة التوبة: 60] کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے ایک آدمی سے کہا: اگر تو ایک صنف میں صدقہ دے دے تو یہ تجھے کفایت کر جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13133
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ أَضَعُ زَكَاةَ مَالِي فِي صِنْفٍ مِنَ الْأَصْنَافِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللهُ فِي كِتَابِهِ {، إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} [التوبة: ٦٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ " نَعَمْ " وَرُوِّينَاهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَعَنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حکم رحمہ اللہ نے ابراہیم رحمہ اللہ سے کہا کہ میں اپنی زکوٰۃ ان آٹھ مصارف میں سے کسی ایک کو دے دوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ ...﴾ [سورة التوبة: 60] میں ہے، انہوں نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13134
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هُذَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، هَذَا الْمَجْنُونُ أَتَانِي هُوَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، فَكَلَّمَانِي أَنْ أَكُفَّ عَنْ ذِكْرِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، أَنَا أَكُفُّ عَنْ ذَكْرِهِ، لَا وَاللهِ لَا أَكُفُّ عَنْ ذَكْرِهِ أَنَا وَاللهِ سَأَلْتُ الْحَكَمَ عَنِ الصَّدَقَةِ تُجْعَلُ فِي صِنْفٍ وَاحِدٍ مِمَّا سَمَّى اللهُ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ "، قُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتَ؟ قَالَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَقُولُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیا تم جریر بن حازم پر تعجب نہیں کرتے، یہ دیوانہ! وہ اور حماد بن زید میرے پاس آئے اور مجھ سے بات کی کہ میں حسن بن عمارہ کا ذکر کرنے سے رک جاؤں، کیا میں اس کا ذکر کرنے سے رک جاؤں؟ نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کا ذکر کرنے سے نہیں رکوں گا۔ اللہ کی قسم! میں نے حکم رحمہ اللہ سے صدقے کے متعلق پوچھا: کیا ایک ہی صنف کو دے دیا جائے گا جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں۔ میں نے پوچھا: آپ نے کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13135
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الكامل لابن عدي 2/ 284»