السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: من قال: لا يخرج صدقة قوم منهم من بلدهم وفي بلدهم من يستحقها باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: کسی قوم کا صدقہ ان کے شہر سے باہر نہیں نکالا جائے گا جبکہ ان کے شہر میں اس کے مستحق موجود ہوں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ هَذَا" الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدُ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ: " سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟، فَقَالَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللهَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِصَوْمِ هَذَا الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتُقْسَمَ عَلَى فُقَرَائِنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ نَعَمْ" قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ" ⦗١٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک آدمی اونٹ پر آیا، اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا پھر اس کو باندھ دیا۔ پھر ان لوگوں کو کہا کہ تم میں سے محمد ﷺ کون ہیں؟ اور آپ ﷺ ہمارے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، ہم نے اس کو کہا کہ یہ سفید آدمی جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ پھر اس آدمی نے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں جواب دیا ہے۔“ اس آدمی نے کہا کہ اے محمد ﷺ! میں تم سے کچھ سوال کروں گا، دوران سوال اگر آپ کو کوئی بات گراں گزرے تو برا محسوس نہ کرنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی سوال کرنا ہے کرو۔“ اس نے کہا کہ میں تجھے تیرے رب اور جو تجھ سے پہلے لوگوں کے رب ہیں کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے تم کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں بالکل۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھیں؟ فرمایا: ”ہاں بالکل۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال میں ایک مہینے کے روزے رکھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال دار لوگوں سے صدقہ وصول کریں اور غریبوں میں تقسیم کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو آخر کار اس نے کہا کہ میں اس چیز پر ایمان لے آیا ہوں، جو چیز آپ لے کر آئے ہیں اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو یہ پیغام دوں گا اور میں ضمام بن ثعلبہ بنو سعد بن بکر کا بھائی ہوں۔