السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: من قال: لا يخرج صدقة قوم منهم من بلدهم وفي بلدهم من يستحقها باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: کسی قوم کا صدقہ ان کے شہر سے باہر نہیں نکالا جائے گا جبکہ ان کے شہر میں اس کے مستحق موجود ہوں
حدیث نمبر: 13140
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَيَقْسِمَهَا فِي فُقَرَائِنَا، وَكُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا لَا مَالَ لِي فَأَعْطَانِي مِنْهَا قَلُوصًا ".حافظ ثناء اللہ
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے صدقہ وصول کرنے والے کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا تو اسے حکم دیا کہ ”وہ مال دار لوگوں سے صدقہ لے اور غریب لوگوں میں تقسیم کرے“ اور میں یتیم لڑکا تھا، میرے پاس مال نہیں تھا، آپ ﷺ نے مجھے اونٹنی عطا کرنے کا حکم دیا۔