کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے بیان میں جو لوگوں کے درمیان اجتہاد کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرے جس میں ان کی بھلائی ہو اور ان سے نقصان دور ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: " إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ انتقاماً کسی کو نقصان دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا ضَرَرَ، وَلَا ضِرَارَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» ”نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ انتقاماً کسی کو نقصان دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعُ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ " قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ، وَاللهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے نہ روکے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اس سے اعراض کیوں کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تو اس بات کا اعلان کرتا رہوں گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ هُوَ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے ہمسائے سے اس کی دیوار پر شہتیر رکھنے کی اجازت مانگے تو وہ اسے منع نہ کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ الْآخَرُ خَشَبًا فِي جُدُرِهِ، فَلَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَرِجَالًا كَثِيرًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا: " نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ لَا يَمْنَعَ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ " فَقَالَ الْحَالِفُ: أَيْ أَخِي قَدْ عَلِمْتُ أَنه يُقْضَى لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ، فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جُدُرِي، فَفَعَلَ الْآخَرُ فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانَةِ خَشَبَةً قَالَ لِي عَمْرٌو: فَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن سلمہ بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی مغیرہ کے دو بھائیوں میں سے ایک نے دوسرے کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دیا، وہ دونوں مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ کو ملے اور وہاں انصار کے اور بھی لوگ تھے، انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے کہ ”کوئی آدمی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کرے۔“ تو قسم کھانے والے بھائی نے کہا: اے میرے بھائی! میں نے جان لیا کہ فیصلہ تیرے حق میں ہے، پس تو میری دیوار کے علاوہ ستون بنا لے، پس دوسرے نے ایسا ہی کیا اور اس نے ستون میں لکڑی گاڑ دی۔ عمرو نے کہا: میں نے یہ بھی دیکھا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعُرَيْضِ فَأَرَادَ أَنْ يُمِرَّهُ فِي أَرْضٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَبَى مُحَمَّدٌ، فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ، تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَلَا يَضُرُّكَ؟ " فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَمْ تَمْنَعْ، وَاللهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ " هَذَا مُرْسَلٌ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ أَيْضًا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ضحاک بن خلیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے چوڑائی میں ایک چھوٹی نہر (نالہ) کھود دی اور اسے ان کی زمین سے گزارنے کا ارادہ کیا تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ اس (معاملے) کی خبر سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دی۔ انہوں نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور حکم دیا کہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو اپنے بھائی کو اس چیز سے کیوں روکتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور تیرے لیے بھی؟ اولاً تو بھی اس سے پیئے گا (کھیتی کو پلائے گا)، تیرے لیے یہ نقصان دہ نہیں۔“ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں“، یعنی انکار کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! وہ اس (نہر) کو ضرور گزارے گا اگرچہ تیرے پیٹ سے گزرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ، وَكَانَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، قَالَ: قَالَ: " فَهَبْهُ لِي وَلَكَ كَذَا وَكَذَا "، أَمْرٌ رَغَّبَهُ فِيهِ، فَأَبَى، فَقَالَ: أَنْتَ مُضَارٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ: " اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ " وَقَدْ رُوِيَ فِي معارضته مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا يُجْبَرُ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے بھی چند درخت تھے اور اس کے ساتھ اہل و عیال بھی تھے، اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ جب باغ میں داخل ہوتے تو اس آدمی پر مشکل اور گراں گزرتا۔ اس نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ درخت بیچ دیں لیکن سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور ذکر کیا۔ نبی ﷺ نے بھی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بیچ دو“ لیکن سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے بدل کے طور پر مانگے۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے پھر انکار کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نقصان پہنچانے والا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے انصاری سے فرمایا: ”جا اور اس کے درختوں کو اکھاڑ دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا، وَقَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَبْهُ لِي "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَ: لَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا رَأَيْتُ أَبْخَلَ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی کہ فلاں آدمی کے میرے باغ میں درخت ہیں اور وہ مجھے تکلیف دیتا ہے اور میرے اوپر گراں گزرتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”مجھے وہ درخت بیچ دے جو فلاں کے باغ میں ہیں۔“ اس نے انکار کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ہبہ کر دے۔“ اس نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں درختوں کے بدلے مجھے بیچ دے۔“ اس نے پھر انکار کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھ سے زیادہ بخیل نہیں دیکھا مگر وہ شخص جو سلام کہنے میں بخل سے کام لے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ عَتَبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّهُ خَاصَمَ يَتِيمًا لَهُ فِي عَذْقِ نَخْلَةٍ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي لُبَابَةَ بِالْعَذْقِ، فَضَجَّ الْيَتِيمُ وَاشْتَكَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي لُبَابَةَ: " هَبْ لِي هَذَا الْعَذْقَ يَا أَبَا لُبَابَةَ؛ لِكَيْ نَرُدَّهُ إِلَى الْيَتِيمِ "، فَأَبَى أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يَهَبَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا لُبَابَةَ، أَعْطِهِ هَذَا الْيَتِيمَ وَلَكَ مِثْلُهُ فِي الْجَنَّةِ "، فَأَبَى أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يُعْطِيَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنِ ابْتَعْتُ هَذَا الْعَذْقَ فَأَعْطَيْتُ الْيَتِيمَ أَلِي مِثْلُهُ فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ، حَتَّى لَقِيَ أَبَا لُبَابَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا لُبَابَةَ، أَبْتَاعُ مِنْكَ هَذَا الْعَذْقَ بِحَدِيقَتِي، وَكَانَتْ لَهُ حَدِيقَةُ نَخْلٍ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ: نَعَمْ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ بِحَدِيقَةٍ، فَلَمْ يَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلَهُمْ فَقُتِلَ شَهِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُبَّ عَذْقٍ مُذَلَّلٍ لِابْنِ الدَّحْدَاحَةِ فِي الْجَنَّةِ " ⦗٢٦١⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ: " لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ " فَهُوَ مُرْسَلٌ، وَهُوَ مُشْتَرَكُ الدَّلَالَةِ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْخَشَبَةِ فَمِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ حَمَلَهُ عَلَى ظَاهِرِهِ لِحَمْلِ رُوَاتِهِ عَلَى الْوُجُوبِ كَمَا تَرَى، وَلَمْ أَجِدْ لِلشَّافِعِيِّ قَوْلًا يُخَالِفُهُ، بَلْ قَدْ نَصَّ فِي الْقَدِيمِ وَالْجَدِيدِ عَلَى مَا يُوَافِقُهُ، وَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقَدْ نَجِدُ مَنْ يَدَعُ الْقَوْلَ بِهِ عُمُومًا فِي أَنَّ كُلَّ مُسْلِمٍ أَحَقُّ بِمَا لَهُ، فَيَتَوَسَّعَ بِهِ فِي خِلَافِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَأَحْسِبُ قَضَاءَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْوُجُوهِ الَّتِي مَنَعَ فِيهَا الضَّرَرَ بِالْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ الضَّرَرُ عَلَيْهَا أَبْيَنَ. قَالَ فِي الْجَدِيدِ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ: امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ فَلْتَصْبِرْ، لَا تَنْكِحُ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا نَقُولُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی چیز جس میں رسول اللہ ﷺ نے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو ڈانٹ پلائی وہ اس طرح کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا ایک یتیم سے باغ کے درختوں میں جھگڑا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے درختوں کا فیصلہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے حق میں کر دیا۔ یتیم پریشان ہوا اور اس نے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے ابو لبابہ! مجھے ہبہ کر دے تاکہ ہم یتیم کو دے دیں۔“ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے ہبہ کرنے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا: ”اے ابو لبابہ! اس یتیم کو دے دو، تیرے لیے جنت میں اس کی مثل ہو گا۔“ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ ایک انصاری آدمی نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں خرید لوں اور یتیم کو دے دوں تو میرے لیے بھی جنت میں اسی طرح کے درخت ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے ”ہاں“ میں جواب دیا۔ وہ انصاری صحابی جن کا نام ابو دحداحہ رضی اللہ عنہ تھا، وہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو ملے اور کہا: اے ابو لبابہ! یہ باغ میرے باغ کے بدلے میں مجھے بیچ دو، اور ابو دحداحہ رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ تھا۔ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے بیچ دیا۔ ابو دحداحہ رضی اللہ عنہ زیادہ دیر زندہ نہ رہے، بلکہ جنگِ احد میں شہید ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کتنے ہی خوشے جنت میں ابو دحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔“