السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من قضى فيما بين الناس بما فيه صلاحهم ودفع الضرر عنهم على الاجتهاد باب: اس شخص کے بیان میں جو لوگوں کے درمیان اجتہاد کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرے جس میں ان کی بھلائی ہو اور ان سے نقصان دور ہو
حدیث نمبر: 11879
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعُ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ " قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ، وَاللهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے نہ روکے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اس سے اعراض کیوں کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تو اس بات کا اعلان کرتا رہوں گا۔