کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، ح وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَشْهَلُ يَعْنِي ابْنَ حَاتِمٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ أَبُو عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا وَاللهِ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهَا، فَمَا تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا "، قَالَ: فَجَعَلَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَدَقَةً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ، تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَلِذَوِي الْقُرْبَى، وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَفِي الرِّقَابِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَالضَّيْفِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَهُ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. لَفْظُهُ حَدِيثُ ابْنِ بِشْرَانَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے، آپ ﷺ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو پیداوار صدقہ کر دے اور اصل زمین روک لے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر اسے صدقہ کر دیا کہ نہ اسے بیچا جائے گا، نہ اسے ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا کوئی وارث بنے گا، اسے فقراء، رشتہ داروں، اللہ کے راستے میں اور گردن آزاد کرانے میں صدقہ کیا جائے گا۔ ابن عون کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے مہمان کا بھی ذکر کیا۔ اور جو اس کا والی ہو، اگر وہ معروف طریقے سے کھا لے اور کسی دوست کو کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11886
درجۂ حدیث محدثین: اخرجه البخاري 2737
تخریج حدیث «اخرجه البخاري 2737۔ مسلم 4223»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا "، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُورَثَ وَلَا يُوهَبَ، لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسی کوئی چیز میرے نزدیک اچھی نہیں ہے۔ آپ ﷺ مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اصل زمین روک لے اور پیداوار صدقہ کردے۔“ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اسے نہ بیچا جائے گا نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور نہ ہبہ کی جائے گی۔ فقراء کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، گردن آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے میں، مہمان کے لیے، مسافر کے لیے صدقہ کردیا اور اس کا والی اگر معروف طریقے سے کھالے یا کسی دوست کو کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11887
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُ بِهِ؟ فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا "، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُورَثَ وَلَا يُوهَبَ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا، فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ: غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالًا، قَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَّ فِيهِ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، مشورہ مانگا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں ہے، آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس کی اصل روک لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کر دیا اس شرط پر کہ اس کی اصل کو نہ بیچا جائے گا، نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور نہ اسے ہبہ کیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء، رشتہ داروں، گردنیں آزاد کرنے، اللہ کے راستے میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھا لے یا کسی دوست کو کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے، تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11888
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا "، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ وَلَا تُورَثَ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْأَقْرَبِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَفِي الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي الضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا يَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِي بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْحَفَرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خیبر میں زمین ملی، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ ﷺ سے مشورہ مانگا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اس کی پیداوار کو صدقہ کر دے اور اصل زمین اپنے پاس رکھ۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ نہ وہ بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ اسے وارث بنایا جائے گا، پس فقراء، رشتہ دار، اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مسافر اور مہمان کے لیے اسے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو، اگر وہ معروف طریقے سے اس میں سے کھا لے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے، تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11889
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَحَبَّ إِلِيَّ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهِ، وَإِنْ شِئْتَ أَمْسَكْتَ أَصْلَهُ "، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ مَالًا، أَوْ مُتَأَثِّلٍ مِنْهُ مَالًا ⦗٢٦٤⦘ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَرْسَلَهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حَمَّادٍ وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ آخِرَهُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے محبوب چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو صدقہ کر دے اور اصل کو روک لے،“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کمزوروں، مساکین اور مسافر پر صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو وہ کھا لے یا کسی دوست کو کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے اور نہ جائیداد بنائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11890
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي هَارُونُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: ثَمْغٌ، وَكَانَ نَخْلًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالًا وَهُوَ عِنْدِي نَفِيسٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ، فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ، فَصَدَقَتُهُ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَفِي الرِّقَابِ وَالْمَسَاكِينِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَلِذِي الْقُرْبَى، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَه أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ بِهِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مال صدقہ کیا، اسے «ثَمْغٌ» کہا جاتا تھا۔ وہ ایک باغ تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے مال ملا ہے جو بڑا پسندیدہ ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اسے صدقہ کر دوں، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کی اصل صدقہ کر دے، نہ بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے، نہ وارث بنایا جائے، لیکن اس کا پھل صدقہ کر دے۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مساکین، مہمان، مسافر اور رشتہ داروں کے لیے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو وہ اس سے معروف طریقے سے کھا لے یا اپنے دوست کو کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے، تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11891
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَبِهَذَا الْمَعْنَى رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِي بِثَمْغٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقْ بِثَمَرِهِ وَاحْبِسْ أَصْلَهُ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُورَثُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ بِلَالٍ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے مشورہ کیا، اپنا ثمغ والا مال صدقہ کرنے کے بارے میں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پھل صدقہ کر دے اور اصل روک لے۔ نہ اسے بیچا جائے اور نہ اس کا وارث بنایا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11892
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: نَسَخَهَا لِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ثَمْغٍ، أَنَّهُ إِلَى حَفْصَةَ مَا عَاشَتْ تُنْفِقُ ثَمَرَهُ حَيْثُ أَرَاهَا اللهُ، فَإِنْ تُوُفِّيَتْ فَإِنَّهُ إِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، لَا يُشْرَى أَصْلُهُ أَبَدًا، وَلَا يُوهَبُ، وَمَنْ وَلِيَهُ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي ثَمَرِهِ إِنْ أَكَلَ أَوْ أَكَّلَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، فَمَا عَفَا عَنْهُ مِنْ ثَمَرِهِ فَهُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَالضَّيْفِ وَذَوِي الْقُرْبَى وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، تُنْفِقُهُ حَيْثُ أَرَاهَا اللهُ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ تُوُفِّيَتْ فَإِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ وَلَدِي، وَالْمِائَةُ الْوَسْقِ الَّذِي أَطْعَمَنِي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي بِيَدِي لَمْ أُهْلِكْهَا، فَإِنَّهُ مَعَ ثَمْغٍ عَلَى سُنَنِهِ الَّتِي أَمَرْتُ بِهَا، وَإِنْ شَاءَ وَلِيُّ ثَمْغٍ اشْتَرَى مِنْ ثَمَرِهِ رَقِيقًا لِعَمَلِهِ. وَكَتَبَ مُعَيْقِيبٌ، وَشَهِدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَرْقَمِ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ ⦗٢٦٥⦘ عَبْدُ اللهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا، وَصِرْمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ السَّهْمِ الَّذِي بِخَيْبَرَ، وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ، يَعْنِي الْوَسْقَ الَّذِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، لَا يُبَاعُ وَلَا يُشْتَرَى، يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى، وَلَا حَرَجَ عَلَى وَلِيِّهِ إِنْ أَكَلَ أَوْ أَكَّلَ، أَوِ اشْتَرَى لَهُ رَقِيقًا مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ثمغ والا مال حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے تھا، جب تک وہ زندہ رہیں، اس کا پھل وہاں خرچ کریں گی جہاں اللہ انہیں سجھائے، پس اگر وہ فوت ہو جائیں تو وہ ان کے خاندان میں سے زیادہ عقل مند کی طرف منتقل ہو جائے گا، اس کی کبھی بیع نہیں کی جائے گی اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور جو اس کا والی ہو گا، اس پر اس کا پھل معروف طریقے سے کھانے یا کسی دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہو گا، بشرطیکہ وہ مال جمع نہ کرے، جو پھل بچے وہ سائل، محروم، مہمان، رشتہ داروں، مسافر اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا۔ پس اگر (حفصہ) فوت ہو جائیں تو میری اولاد میں سے عقل مند کی طرف لوٹ جائے گا اور ایک سو وسق جو رسول اللہ ﷺ نے وادی میں کھلائے انہیں کبھی ختم نہیں کروں گا اور وہ ثمغ کے ساتھ اسی طریقے پر رہیں گے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ اگر ثمغ کا والی چاہے اس کے پھل سے کام کرنے کے لیے غلام خرید سکتا ہے اور معیقیب نے لکھا، عبداللہ بن ارقم اس پر گواہ تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، یہ وہ ہے جو اللہ کے بندے عمر نے وصیت کی: اگر وہ فوت ہو جائے بیشک ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور وہ بندہ جو اس میں ہو اور ایک سو حصے خیبر والے اور اس کا غلام اور ایک سو وسق جو محمد ﷺ نے کھلایا، حفصہ کے پاس ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے پھر اس کو ملے گا جو اس کے اہل میں سے عقل مند ہو۔ نہ بیچا جائے گا اور نہ خریدا جائے گا۔ وہ اس سے خرچ کرے گا، جب دیکھے گا کہ کوئی سائل، محروم، رشتہ دار ہو اور اس کے والی پر کوئی حرج نہیں کہ اس سے کھا لے یا کھلا دے یا کوئی غلام خرید لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11893
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ: " لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَسِلَاحًا وَأَرْضًا، جَعَلَهَا صَدَقَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سفید خچر، اپنی زرہ اور زمین ترکہ کے طور پر چھوڑی، اس کو صدقہ کر دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11894
درجۂ حدیث محدثین: ابن الجعد 2534
تخریج حدیث «ابن الجعد 2534۔ ابن سعد 2/ 316»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ خَتَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي امْرَأَتِهِ قَالَ: " وَاللهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً، وَلَا شَيْئًا، إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَأَبِي الْأَحْوَصِ وَالثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ غلام، نہ لونڈی اور نہ کوئی اور چیز سوائے سفید خچر کے اور اپنی زِرہ اور زمین کے، اس کو بھی صدقہ کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11895
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي نُذَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْأَحْوَصِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ سَبْعَ حِيطَانٍ لَهُ بِالْمَدِينَةِ صَدَقَةً عَلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَنِي هَاشِمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں سات باغ بنی عبدالمطلب پر اور بنی ہاشم پر صدقہ کیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11896
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَطَعَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَنْبُعَ، ثُمَّ اشْتَرَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى قَطِيعَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْيَاءَ، فَحَفَرَ فِيهَا عَيْنًا، فَبَيْنَا هُمْ يَعْمَلُونَ فِيهَا إِذْ تَفَجَّرَ عَلَيْهِمْ مِثْلُ عُنُقِ الْجَزُورِ مِنَ الْمَاءِ، فَأُتِيَ عَلِيٌّ وَبُشِّرَ بِذَلِكَ، قَالَ: " بَشِّرِ الْوَارِثَ " ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَفِي ⦗٢٦٦⦘ سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَفِي السِّلْمِ وَفِي الْحَرْبِ، لِيَوْمٍ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ؛ لِيَصْرِفَ اللهُ تَعَالَى بِهَا وَجْهِي عَنِ النَّارِ، وَيَصْرِفَ النَّارَ عَنْ وَجْهِي وَرُوِّينَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ عُمَرَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَقَفَا أَرْضًا لَهُمَا بِتَابَتَلَا.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ینبع میں ایک جاگیر دی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی (دی ہوئی) جاگیر کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی خرید لیں، اس میں ایک چشمہ کھودا، وہ اس میں کام کر رہے تھے کہ اونٹ کی گردن کی مثل پانی پھوٹ نکلا، کوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں خوشخبری دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وارث کو خوشخبری دو“، پھر اس کو فقراء، مساکین، اللہ کے راستے میں، مسافر اگرچہ قریبی ہو یا دور کا، حالتِ امن میں ہو یا جنگ میں، سب کے لیے صدقہ کر دیا، اس دن کے لیے جس دن کچھ چہرے سفید اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تاکہ اللہ تعالیٰ میرے چہرے کو آگ سے پھیر دے اور آگ کو میرے چہرے سے پھیر دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11897
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَصَدَّقَتْ بِمَالِهَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ عَلَيْهِمْ وَأَدْخَلَ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ رضی اللہ عنہا نے بنی ہاشم اور بنی مطلب پر اپنے مال سے صدقہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان پر صدقہ کیا اور ان کے علاوہ اور لوگوں کو بھی شامل کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11898
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ الام للشافعي 4/ 57»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ قَدْ " حَبَسَ دَارَهُ الَّتِي فِي الْبَقِيعِ، وَدَارَهُ الَّتِي عِنْدَ الْمَسْجِدِ، وَكَتَبَ فِي كِتَابٍ حَبَسَهُ عَلَى مَا حَبَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَالَ مَالِكٌ: وَحَبَسَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عِنْدِي، قَالَ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْكُنُ مَنْزِلًا فِي دَارِهِ الَّتِي حَبَسَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مَاتَ فِيهِ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَ ذَلِكَ " حَبَسَ دَارَهُ وَكَانَ يَسْكُنُ مَسْكَنًا فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنا وہ گھر رکھ لیا جو بقیع کے پاس تھا اور وہ گھر جو مسجد کے پاس تھا اور اسے «حُبْسَه» میں لکھ دیا، جسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے روکا تھا، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا لکھا ہوا «حُبْس» میرے پاس ہے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد کے پاس والے گھر میں رہے، یہاں تک کہ اسی میں فوت ہوئے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی کیا، انہوں نے اپنا گھر روک رکھا جو ان کا مسکن (رہائش) تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11899
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمِهْرَجَانِيُّ الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: " وَتَصَدَّقَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ عَلَى وَلَدِهِ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرُبُعِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ وَبِالثَّنِيَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِهِ بِيَنْبُعَ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ فِي الْحَرَامِيَّةِ، وَدَارِهِ بِمِصْرَ، وَأَمْوَالِهِ بِالْمَدِينَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ، وَتَصَدَّقَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِالْمَدِينَةِ وَبِدَارِهِ بِمِصْرَ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرُومَةَ، فَهِيَ إِلَى الْيَوْمِ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَهْطِ مِنَ الطَّائِفِ وَدَارِهِ بِمَكَّةَ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ عَلَى وَلَدِهِ، فَذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ " قَالَ: وَمَا لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُهُ كَثِيرٌ، يُجْزِئُ مِنْهُ أَقَلُّ مِمَّا ذَكَرْتُ، قَالَ: وَفِيمَا ذَكَرْتُ مِنْ صَدَقَاتِ مَنْ تَصَدَّقَ بِدَارِهِ بِمَكَّةَ حُجَّةٌ لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي مِلْكِ بُيُوتِهَا وَكِرَاءِ ⦗٢٦٧⦘ مَنَازِلَهَا؛ لِأَنَّهُ لَا يَعْمِدُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالزُّبَيْرُ وَعُثْمَانُ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى شَيْءٍ النَّاسُ فِيهِ شُرَّعٌ سَوَاءٌ فَيَتَصَدَّقُونَ بِهِ عَلَى أَوْلَادِهِمْ دُونَ مَالِكِيهِ مَعَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر عبداللہ بن زبیر حمیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی مروہ اور ثنیہ والی جگہ اپنی اولاد پر صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنی ینبع والی زمین صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ اور مصر والا گھر اور اپنے مدینہ والے اموال اپنی اولاد پر صدقہ کیے۔ وہ آج تک اسی طرح ہیں اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنا مدینہ اور مصر والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے «بِئْرَ رُومَةَ» ”بئرِ رومہ“ صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے طائف اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنا مدینہ اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے؛ فرمایا: اور جو مجھے یاد نہیں وہ بہت ہے، اور جو میں نے ذکر کیا اس سے کم بھی کافی ہے۔ اور جو میں نے ذکر کیا کہ جس نے اپنا گھر مکہ میں صدقہ کر دیا، اس میں اہل مکہ کے لیے دلیل ہے ان کے گھروں کی ملکیت اور ان کو کرایہ پر دینے کی؛ اس لیے کہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا زبیر، سیدنا عثمان، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہم ایسی چیز کا قصد نہیں کر سکتے تھے جس میں سب لوگ برابر کے شریک ہوں کہ اسے اپنے ساتھ کے دوسرے مالکوں کو چھوڑ کر صرف اپنی اولاد پر صدقہ کر دیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11900
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ " وَقَفَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ إِذَا حَجَّ مَرَّ بِالْمَدِينَةِ فَنَزَلَ دَارَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدینہ میں اپنا گھر صدقہ کیا، جب وہ حج کے لیے آتے تو اپنے گھر میں ٹھہر جاتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوقف / حدیث: 11901
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»