السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من قضى فيما بين الناس بما فيه صلاحهم ودفع الضرر عنهم على الاجتهاد باب: اس شخص کے بیان میں جو لوگوں کے درمیان اجتہاد کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرے جس میں ان کی بھلائی ہو اور ان سے نقصان دور ہو
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ الْآخَرُ خَشَبًا فِي جُدُرِهِ، فَلَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَرِجَالًا كَثِيرًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا: " نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ لَا يَمْنَعَ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ " فَقَالَ الْحَالِفُ: أَيْ أَخِي قَدْ عَلِمْتُ أَنه يُقْضَى لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ، فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جُدُرِي، فَفَعَلَ الْآخَرُ فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانَةِ خَشَبَةً قَالَ لِي عَمْرٌو: فَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ.عکرمہ بن سلمہ بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی مغیرہ کے دو بھائیوں میں سے ایک نے (غلام) آزاد کرنے کی قسم کھا لی کہ دوسرا اس کی دیوار میں لکڑی نہیں گاڑے گا، وہ دونوں مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ کو ملے اور وہاں انصار کے اور بھی لوگ تھے، انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے کہ ”کوئی آدمی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کرے۔“ تو قسم کھانے والے بھائی نے کہا: اے میرے بھائی! میں نے جان لیا کہ فیصلہ تیرے حق میں ہے اور میں قسم کھا چکا ہوں، پس تو میری دیوار کے علاوہ ستون بنا لے، پس دوسرے نے ایسا ہی کیا اور اس نے ستون میں لکڑی گاڑ دی۔ عمرو نے کہا: میں نے یہ بھی دیکھا ہے۔