السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من قضى فيما بين الناس بما فيه صلاحهم ودفع الضرر عنهم على الاجتهاد باب: اس شخص کے بیان میں جو لوگوں کے درمیان اجتہاد کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرے جس میں ان کی بھلائی ہو اور ان سے نقصان دور ہو
حدیث نمبر: 11878
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا ضَرَرَ، وَلَا ضِرَارَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» ”نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ انتقاماً کسی کو نقصان دو۔“