حدیث نمبر: 11884
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا، وَقَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَبْهُ لِي "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَ: لَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا رَأَيْتُ أَبْخَلَ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی کہ فلاں آدمی کے میرے باغ میں درخت ہیں اور وہ مجھے تکلیف دیتا ہے اور میرے اوپر گراں گزرتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”مجھے وہ درخت بیچ دے جو فلاں کے باغ میں ہیں۔“ اس نے انکار کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ہبہ کر دے۔“ اس نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں درختوں کے بدلے مجھے بیچ دے۔“ اس نے پھر انکار کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھ سے زیادہ بخیل نہیں دیکھا مگر وہ شخص جو سلام کہنے میں بخل سے کام لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب إحياء الموات / حدیث: 11884
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»