السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من قضى فيما بين الناس بما فيه صلاحهم ودفع الضرر عنهم على الاجتهاد باب: اس شخص کے بیان میں جو لوگوں کے درمیان اجتہاد کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرے جس میں ان کی بھلائی ہو اور ان سے نقصان دور ہو
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعُرَيْضِ فَأَرَادَ أَنْ يُمِرَّهُ فِي أَرْضٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَبَى مُحَمَّدٌ، فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ، تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَلَا يَضُرُّكَ؟ " فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَمْ تَمْنَعْ، وَاللهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ " هَذَا مُرْسَلٌ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ أَيْضًا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ.سیدنا عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ضحاک بن خلیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے چوڑائی میں ایک چھوٹی نہر (نالہ) کھود دی اور اسے ان کی زمین سے گزارنے کا ارادہ کیا تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ اس (معاملے) کی خبر سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دی۔ انہوں نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور حکم دیا کہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو اپنے بھائی کو اس چیز سے کیوں روکتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور تیرے لیے بھی؟ اولاً تو بھی اس سے پیئے گا (کھیتی کو پلائے گا)، تیرے لیے یہ نقصان دہ نہیں۔“ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں“، یعنی انکار کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! وہ اس (نہر) کو ضرور گزارے گا اگرچہ تیرے پیٹ سے گزرے۔“