أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بیری کا درخت کاٹا اللہ اس کا سر آگ میں ڈالیں گے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِ رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
نصر بن علی نے ابوداؤد کی روایت کی طرح بیان کیا ہے، صرف یہاں سے سند مختلف ہے: «عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ» ”ابن جبیر بن مطعم سے، وہ عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی ﷺ سے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الصِّلْحِيُّ بِفَمِ الصِّلْحِ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: هَكَذَا كَتَبْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَسْعَدَةَ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ. قَوْلُهُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَصَارَتْ رِوَايَةُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ بِهَذَا مَعْلُولَةً، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو أُسَامَةَ رَوَاهُ عَلَى الْوَجْهَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بیری کا درخت کاٹا، اللہ اس کا سر آگ میں ڈالیں گے۔“
ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ہم نے اسے مسعدہ کی حدیث سے اسی طرح لکھا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی اور یہ غلطی ہے، ابن جریج نے تو اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور ابو اسامہ نے بھی اسے ابن جریج سے (اسی طرح) روایت کیا ہے۔ چنانچہ نصر بن علی کی ابو اسامہ سے اس سند والی روایت معلول ہو گئی، اور یہ احتمال ہے کہ ابو اسامہ نے اسے دونوں طرح روایت کیا ہو۔
ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ہم نے اسے مسعدہ کی حدیث سے اسی طرح لکھا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی اور یہ غلطی ہے، ابن جریج نے تو اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور ابو اسامہ نے بھی اسے ابن جریج سے (اسی طرح) روایت کیا ہے۔ چنانچہ نصر بن علی کی ابو اسامہ سے اس سند والی روایت معلول ہو گئی، اور یہ احتمال ہے کہ ابو اسامہ نے اسے دونوں طرح روایت کیا ہو۔
وَقَدْ رَوَاهُ مَعْمَرٌ كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِي الَّذِي يَقْطَعُ السِّدْرَ، قَالَ: " يُصَبُّ ⦗٢٣١⦘ عَلَيْهِ الْعَذَابُ "، أَوْ قَالَ: " يُصَوَّبُ رَأْسُهُ فِي النَّارِ "، قَالَ: فَسَأَلْتُ بَنِي عُرْوَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عُرْوَةَ قَطَعَ سِدْرَةً كَانَتْ فِي حَائِطٍ فَجَعَلَ بَابًا لِحَائِطٍ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ مِنْ ثِقِيفٍ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیری کے متعلق حدیثِ مرفوع بیان کرتے ہیں: ”اس پر عذاب پیش کیا جائے گا“ یا فرمایا: ”اس کا سر آگ میں پھینکا جائے گا۔“ راوی ثقیف کہتے ہیں: مجھے عروہ رحمہ اللہ کے بیٹوں نے خبر دی کہ عروہ رحمہ اللہ نے بیری کو کاٹا جو باغ میں تھی، اس سے باغ کے لیے دروازہ بنایا گیا۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الَّذِينَ يَقْطَعُونَ السِّدْرَ يَصُبُّهُمُ اللهُ عَلَى رُءُوسِهِمْ فِي النَّارِ صَبًّا " أَبُو عُثْمَانَ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَكِّيُّ، وَهَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْهُ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ بیری کاٹتے ہیں اللہ ان کو سر کے بل آگ میں ڈالے گا۔“
یہ ابو عثمان محمد بن شریک مکی ہیں، اور ان سے محفوظ یہی ہے کہ یہ روایت مرسل ہے۔
یہ ابو عثمان محمد بن شریک مکی ہیں، اور ان سے محفوظ یہی ہے کہ یہ روایت مرسل ہے۔
وَقَدْ رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الَّذِينَ يَقْطَعُونَ السِّدْرَ يُصَبُّونَ فِي النَّارِ عَلَى رُءُوسِهِمْ صَبًّا " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: مَا أُرَاهُ حَفِظَهُ عَنْ وَكِيعٍ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، يَعْنِي الْقَاسِمَ، وَالْمَحْفُوظُ رِوَايَةُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ، وَمَنْ تَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ بیری کاٹتے ہیں ان کو سروں کے بل آگ میں ڈالا جائے گا۔“
ابو علی فرماتے ہیں: میرا خیال نہیں کہ اس (قاسم بن ابی شیبہ) نے اسے وکیع سے صحیح یاد رکھا ہو، اور (محدثین نے) اس پر کلام کیا ہے۔ محفوظ ابو احمد زبیری اور ان کی متابعت کرنے والوں کی روایت ہے جو محمد بن شریک سے، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عمرو بن اوس سے، وہ عروہ سے، رسول اللہ ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں۔
ابو علی فرماتے ہیں: میرا خیال نہیں کہ اس (قاسم بن ابی شیبہ) نے اسے وکیع سے صحیح یاد رکھا ہو، اور (محدثین نے) اس پر کلام کیا ہے۔ محفوظ ابو احمد زبیری اور ان کی متابعت کرنے والوں کی روایت ہے جو محمد بن شریک سے، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عمرو بن اوس سے، وہ عروہ سے، رسول اللہ ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ شَيْخًا مِنْ ثَقِيفٍ قَدْ أَفْسَدَ السِّدْرُ زَرْعَهُ، فَقُلْتُ: أَلَا تَقْطَعُهُ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِلَّا مِنْ زَرْعٍ "؟ فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ إِلَّا مِنْ زَرْعٍ صُبَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ صَبًّا "، فَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أَقْطَعَهُ مِنَ الزَّرْعِ وَمِنْ غَيْرِهِ " فَهَذَا إِسْنَادٌ آخَرُ لِعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ سِوَى رِوَايَتِهِ عَنْ عُرْوَةَ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے بنی ثقیف کے ایک بزرگ کو دیکھا کہ بیری کے درخت نے اس کے کھیتوں کو خراب کر دیا تھا۔ میں نے کہا: تم اسے کاٹ کیوں نہیں دیتے؟ رسول اللہ ﷺ نے کھیتی کے علاوہ کاٹنے سے منع کیا ہے۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ: ”جس نے بیری کو کھیتی کے علاوہ کاٹا اس پر عذاب برسایا جائے گا“، میں ناپسند کرتا ہوں کہ اسے کھیتی سے کاٹوں یا اس کے علاوہ سے۔
یہ عروہ سے ان کی روایت کے علاوہ عمرو بن اوس کی ایک اور سند ہے، اگر ابراہیم بن یزید نے اسے صحیح یاد رکھا ہو۔
یہ عروہ سے ان کی روایت کے علاوہ عمرو بن اوس کی ایک اور سند ہے، اگر ابراہیم بن یزید نے اسے صحیح یاد رکھا ہو۔
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَكِيعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الضَّبِّيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٣٢⦘ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْرُجْ فَأَذِّنْ فِي النَّاسِ مِنَ اللهِ لَا مِنْ رَسُولِهِ: لَعَنَ اللهُ قَاطِعَ السِّدْرَةِ " هَكَذَا قَالَهُ شَيْخُنَا فِي غَرَائِبِ الشُّيُوخِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں اعلان کر دو اللہ کی طرف سے نہ کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کہ اللہ بیری کے درخت کاٹنے والے پر لعنت کرے گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ خُزَيْمَةَ الدِّينَوَرِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَكَذَا قَالَ لَنَا هَذَا الشَّيْخُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ فِي إِسْنَادِهِ وَهْمٌ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ جُرَيْجٍ فِي إِسْنَادِهِ وَهُوَ الصَّوَابُ. وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ مُرْسَلًا، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْخُوزِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَسُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " إِلَّا مِنْ زَرْعٍ " قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مُضْطَرِبٌ، وَإِبْرَاهِيمُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ: ”کھیتی کے علاوہ۔“
ابو علی فرماتے ہیں: اس شیخ نے ہمیں اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند میں ابن جریج (کا ذکر) وہم ہے، ابراہیم بن منذر نے اسے ہشام بن سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن جریج کا ذکر نہیں کیا اور یہی درست ہے۔ ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ابراہیم بن یزید کی حدیث مضطرب ہے اور ابراہیم ضعیف ہے۔
ابو علی فرماتے ہیں: اس شیخ نے ہمیں اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس کی سند میں ابن جریج (کا ذکر) وہم ہے، ابراہیم بن منذر نے اسے ہشام بن سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن جریج کا ذکر نہیں کیا اور یہی درست ہے۔ ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ابراہیم بن یزید کی حدیث مضطرب ہے اور ابراہیم ضعیف ہے۔
كَمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " اخْرُجْ يَا عَلِيُّ فَقُلْ عَنِ اللهِ لَا عَنْ رَسُولِ اللهِ: لَعَنَ اللهُ مَنْ يَقْطَعُ السِّدْرَ " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: كُلُّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ، إِلَّا حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي هَلْ سَمِعَ سَعِيدٌ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبَشِيٍّ أَمْ لَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولًا إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوجعفر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرضِ وفات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے علی! جاؤ، اللہ کی طرف سے اعلان کرو، نہ کہ رسول کی طرف سے کہ اللہ لعنت کرے اس پر جو بیری کاٹے۔“
یہ سب روایات منقطع اور ضعیف ہیں، سوائے ابن جریج کی حدیث کے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ سعید نے عبداللہ بن حبشی سے سنا ہے یا نہیں، اور احتمال ہے کہ انہوں نے سنا ہو، واللہ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے، اگر وہ محفوظ ہو۔
یہ سب روایات منقطع اور ضعیف ہیں، سوائے ابن جریج کی حدیث کے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ سعید نے عبداللہ بن حبشی سے سنا ہے یا نہیں، اور احتمال ہے کہ انہوں نے سنا ہو، واللہ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے، اگر وہ محفوظ ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ ⦗٢٣٣⦘ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ثنا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاطِعُ السِّدْرِ يُصَوِّبُ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ ".
حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیری کاٹنے والے کا سر اللہ آگ میں ڈالے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ بِالشَّجَرَةِ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَخِيهِ مُخَارِقِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنَ اللهِ لَا مِنْ رَسُولِهِ: لَعَنَ اللهُ عَاضِدَ السِّدْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ کی طرف سے ہے نہ کہ رسول ﷺ کی طرف سے کہ اللہ کی لعنت ہے بیری اکھاڑنے والے پر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ، وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ، كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ " زَادَ حُمَيْدٌ فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ، جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ، سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ، فَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي الْحَسَنِ الْعَاصِمِيِّ رِوَايَتَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ الْفَرَجِيِّ، عَنْ أَبِي ثَوْرٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " اغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ " قُلْتُ: فَالْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ فِي قَاطِعِ السِّدْرِ يَكُونُ مَحْمُولًا عَلَى مَا حَمَلَهُ عَلَيْهِ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِنْ صَحَّ طَرِيقُهُ، فَفِيهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَرُوِّينَا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ كَانَ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ، وَهُوَ أَحَدُ رُوَاةِ النَّهْيِ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النَّهْيُ خَاصًّا كَمَا قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ يَحْيَى الْمُزَنِيَّ رَحِمَهُ اللهُ سُئِلَ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: وَجْهُهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ هَجَمَ عَلَى قَطْعِ سِدْرٍ لِقَوْمٍ أَوْ لِيَتِيمٍ أَوْ لِمَنْ حَرَّمَ اللهُ أَنْ يُقْطَعَ عَلَيْهِ، فَتَحَامَلَ عَلَيْهِ بِقَطْعِهِ فَاسْتَحَقَّ مَا قَالَهُ، فَتَكُونَ الْمَسْأَلَةُ سَبَقَتِ السَّامِعَ، فَسَمِعَ الْجَوَابَ وَلَمْ يَسْمَعِ الْمَسْأَلَةَ، وَجَعَلَ نَظِيرَهُ حَدِيثَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ⦗٢٣٤⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ "، فَسَمِعَ الْجَوَابَ وَلَمْ يَسْمَعِ الْمَسْأَلَةَ، وَقَدْ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ "، وَاحْتَجَّ الْمُزَنِيُّ بِمَا احْتَجَّ بِهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ مِنْ إِجَازَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ الْمَيِّتُ بِالسِّدْرِ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يَجُزِ الِانْتِفَاعُ بِهِ، قَالَ: وَالْوَرَقُ مِنَ السِّدْرِ كَالْغُصْنِ، وَقَدْ سَوَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا حَرَّمَ قَطْعَهُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ بَيْنَ وَرَقِهِ وَبَيْنَ غَيْرِهِ، فَلَمَّا لَمْ أَرَ أَحَدًا يُمْنَعُ مِنْ وَرَقِ السِّدْرِ دَلَّ عَلَى جَوَازِ قَطْعِ السِّدْرِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) حسان بن ابراہیم فرماتے ہیں: میں نے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے بیری کو کاٹنے کے بارے میں سوال کیا اور وہ عروہ رحمہ اللہ کے مکان سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا: ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھتے ہو؟ وہ عروہ رحمہ اللہ کی بیری کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ نے اپنی زمین سے کاٹا تھا اور کہا تھا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ہشام نے کہا: اے عراقی! یہ بدعت تو لے کر آیا ہے، حسان کہتے ہیں: میں نے کہا کہ بدعت تو تمہاری طرف سے ہے، میں نے اہل مکہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بیری کاٹنے والے پر لعنت کی ہے“۔ ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی جس نے کسی بیابان میں ایسی بیری بے مقصد اور ظلم سے، بغیر کسی حق کے کاٹی جس سے مسافر اور جانور سایہ لیتے ہوں۔
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو ثور رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے بیری کاٹنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی ﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”اس کو پانی کے ساتھ اور بیری کے ساتھ غسل دو“۔
(ج) میں نے کہا: بیری کاٹنے والے کے بارے میں جو حدیث روایت کی گئی ہے وہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی توجیہ پر محمول ہوگی، اگر اس کی سند صحیح ہو، کیونکہ اس میں وہ اختلاف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
(د) ہم نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی زمین سے اس کو کاٹ دیتے تھے، حالانکہ وہ نہی کے راویوں میں سے ایک ہیں، تو لگتا ہے کہ نہی خاص ہے جیسا کہ ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا، واللہ اعلم۔ اسماعیل بن یحییٰ مزنی رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے کسی قوم کی یا کسی یتیم کی یا ایسے شخص کی بیری کاٹنے پر ہاتھ ڈالا جس کی بیری کاٹنا اللہ نے اس پر حرام کیا ہے، اور اسے کاٹ کر اس پر زیادتی کی، تو وہ اس وعید کا مستحق ہوا جو آپ ﷺ نے فرمائی۔ پس اس پر ہی محمول ہوگا سننے والے نے جواب سن لیا اور سوال نہ سنا اور وہ اس حدیث کی طرح ہے جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہے“۔ اس راوی نے بھی سوال نہ سنا اور جواب سن لیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، دست بدست“۔
(ر) اور مزنی رحمہ اللہ نے اسی سے دلیل پکڑی ہے جس سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ نبی ﷺ نے میت کو بیری سے غسل دینے کی اجازت دی ہے۔ اگر حرام تھی تو اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوتا۔ فرمایا: بیری کے پتے گویا کہ شاخیں ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے حرم کے درختوں کو کاٹنے کی حرمت کو برابر رکھا چاہے صرف پتے ہوں یا کوئی اور چیز۔ جب میں نے کسی کو پتوں سے روکتے نہیں دیکھا تو یہ بیری کے کاٹنے پر جواز فراہم کرتا ہے۔
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو ثور رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے بیری کاٹنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی ﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”اس کو پانی کے ساتھ اور بیری کے ساتھ غسل دو“۔
(ج) میں نے کہا: بیری کاٹنے والے کے بارے میں جو حدیث روایت کی گئی ہے وہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی توجیہ پر محمول ہوگی، اگر اس کی سند صحیح ہو، کیونکہ اس میں وہ اختلاف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
(د) ہم نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی زمین سے اس کو کاٹ دیتے تھے، حالانکہ وہ نہی کے راویوں میں سے ایک ہیں، تو لگتا ہے کہ نہی خاص ہے جیسا کہ ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا، واللہ اعلم۔ اسماعیل بن یحییٰ مزنی رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے کسی قوم کی یا کسی یتیم کی یا ایسے شخص کی بیری کاٹنے پر ہاتھ ڈالا جس کی بیری کاٹنا اللہ نے اس پر حرام کیا ہے، اور اسے کاٹ کر اس پر زیادتی کی، تو وہ اس وعید کا مستحق ہوا جو آپ ﷺ نے فرمائی۔ پس اس پر ہی محمول ہوگا سننے والے نے جواب سن لیا اور سوال نہ سنا اور وہ اس حدیث کی طرح ہے جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہے“۔ اس راوی نے بھی سوال نہ سنا اور جواب سن لیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، دست بدست“۔
(ر) اور مزنی رحمہ اللہ نے اسی سے دلیل پکڑی ہے جس سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ نبی ﷺ نے میت کو بیری سے غسل دینے کی اجازت دی ہے۔ اگر حرام تھی تو اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوتا۔ فرمایا: بیری کے پتے گویا کہ شاخیں ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے حرم کے درختوں کو کاٹنے کی حرمت کو برابر رکھا چاہے صرف پتے ہوں یا کوئی اور چیز۔ جب میں نے کسی کو پتوں سے روکتے نہیں دیکھا تو یہ بیری کے کاٹنے پر جواز فراہم کرتا ہے۔