کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: زمین میں گوبر اور غلاظت (بطور کھاد) ڈالنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11754
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، هَكَذَا قَالَ يَزِيدُ، قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَحْمِلُ مِكْتَلَ عُرَّةٍ إِلَى أَرْضٍ لَهُ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ سَعْدٍ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَقَالَ سَعْدٌ: مِكْتَلُ عُرَّةٍ مِكْتَلُ بُرٍّ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْعُرَّةُ هِيَ عَذِرَةُ النَّاسِ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ ذَلِكَ فِي الْعَذِرَةِ خَاصَّةً.
حافظ ثناء اللہ
یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کھاد کا ٹوکرا اپنی زمین میں ڈالتے تھے اور سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاد کا ٹوکرا گویا کہ گیہوں کا ٹوکرا ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْقُرَّةُ» لوگوں کی گندگی کو کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف منقول ہے۔
حدیث نمبر: 11755
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَشْتَرِطُ عَلَى الَّذِي يُكْرِيهِ أَرْضَهُ أَنْ لَا يُعِرَّهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدَعَ عَبْدُ اللهِ الْكِرَاءَ " وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی جو زمین کرایہ پر دیتے اس پر شرط لگاتے کہ وہ اس میں کھاد نہیں ڈالے گا، یہ اس وقت تھا جب وہ کرایہ پر زمین دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 11756
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٢٣٠⦘ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كُنَّا نُكْرِي أَرْضَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَشْتَرِطُ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَدْمُلُوهَا بِعَذِرَةِ النَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی زمین کرایہ پر دیتے تھے اور ہم شرط لگاتے تھے کہ وہ اس میں لوگوں کی گندگی نہیں ڈالیں گے۔
حدیث نمبر: 11757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أُسَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَكْنِسُ حَتَّى تَزَوَّجْتُ وَعَتَقْتُ وَحَجَجْتُ، قَالَ: " مَا كُنْتَ تَكْنِسُ؟ " قَالَ: الْعَذِرَةَ، قَالَ: " أَنْتَ خَبِيثٌ، وَعِتْقُكَ خَبِيثٌ، وَحَجُّكُ خَبِيثٌ، اخْرُجْ مِنْهُ كَمَا دَخَلْتَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میں جھاڑو دیتا تھا یہاں تک کہ میں نے شادی کی اور میں نے آزاد کر دیا اور میں نے حج کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تو کیا جھاڑو دیتا تھا؟ اس نے کہا: گندگی کو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو خبیث اور تیرا آزاد کرنا بھی خبیث اور تیرا حج بھی ناپاک، اس سے نکل جا جس طرح تو اس میں داخل ہوا۔