السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما جاء في قطع السدرة باب: بیری کا درخت کاٹنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11764
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ شَيْخًا مِنْ ثَقِيفٍ قَدْ أَفْسَدَ السِّدْرُ زَرْعَهُ، فَقُلْتُ: أَلَا تَقْطَعُهُ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِلَّا مِنْ زَرْعٍ "؟ فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ إِلَّا مِنْ زَرْعٍ صُبَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ صَبًّا "، فَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أَقْطَعَهُ مِنَ الزَّرْعِ وَمِنْ غَيْرِهِ " فَهَذَا إِسْنَادٌ آخَرُ لِعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ سِوَى رِوَايَتِهِ عَنْ عُرْوَةَ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ.حافظ ثناء اللہ
عروہ بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بنی ثقیف کے ایک بزرگ کو دیکھا کہ بیری کے درخت نے اس کے کھیتوں کو خراب کر دیا تھا۔ میں نے کہا: تم اسے کاٹ کیوں نہیں دیتے؟ رسول اللہ ﷺ نے کھیتی کے علاوہ کاٹنے سے منع کیا ہے۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ: ”جس نے بیری کو کھیتی کے علاوہ کاٹا اس پر عذاب برسایا جائے گا“، میں ناپسند کرتا ہوں کہ اسے کھیتی سے کاٹوں یا اس کے علاوہ سے۔