السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما جاء في قطع السدرة باب: بیری کا درخت کاٹنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الصِّلْحِيُّ بِفَمِ الصِّلْحِ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: هَكَذَا كَتَبْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَسْعَدَةَ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ. قَوْلُهُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَصَارَتْ رِوَايَةُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ بِهَذَا مَعْلُولَةً، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو أُسَامَةَ رَوَاهُ عَلَى الْوَجْهَيْنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بیری کا درخت کاٹا، اللہ اس کا سر آگ میں ڈالیں گے۔“
ابو علی حافظ فرماتے ہیں: ہم نے اسے مسعدہ کی حدیث سے اسی طرح لکھا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی اور یہ غلطی ہے، ابن جریج نے تو اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور ابو اسامہ نے بھی اسے ابن جریج سے (اسی طرح) روایت کیا ہے۔ چنانچہ نصر بن علی کی ابو اسامہ سے اس سند والی روایت معلول ہو گئی، اور یہ احتمال ہے کہ ابو اسامہ نے اسے دونوں طرح روایت کیا ہو۔