کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ”جس شخص نے کسی ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جو نہ کسی کی ملکیت ہو اور نہ کسی کے حق میں آتی ہو تو وہ اسی کی ہے“۔
حدیث نمبر: 11771
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ عَمَّرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " قَالَ عُرْوَةُ: قَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں یہی فیصلہ دیا تھا۔
حدیث نمبر: 11772
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 11773
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ الْأَرْضَ أَرْضُ اللهِ، وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللهِ، وَمَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ. جَاءَنَا بِهَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ جَاءُونَا بِالصَّلَوَاتِ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”زمین اللہ کی زمین ہے اور بندے بھی اللہ کے بندے ہیں اور جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ ہم کو یہ بات ان لوگوں سے پہنچی ہے جن سے نماز پہنچی ہے۔
حدیث نمبر: 11774
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 11775
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " قَالَ: وَقَالَ هِشَامٌ: الْعِرْقُ الظَّالِمُ أَنْ يَأْتِيَ مَالَ غَيْرِهِ فَيَحْفِرَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مردہ زمین آباد کی وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“ ہشام کہتے ہیں: «الْعِرْقُ الظَّالِمُ» کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کے مال پر قبضہ کرلے پھر اس میں کنواں کھود لے۔
حدیث نمبر: 11776
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدٌ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ قَبْلَهُ فِهيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " قَالَ: فَلَقَدْ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ مِنْ بَيَاضَةَ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَجَمَةٍ لِأَحَدِهِمَا غَرَسَ فِيهَا الْآخَرُ نَخْلًا، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ بِأَرْضِهِ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ عَنْهُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ بِالْفُئُوسِ، وَإِنَّهُ لَنَخْلٌ عُمٌّ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَالْعُمُّ قَالَ بَعْضُهُمُ: الَّذِي لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ، وَقَالَ بَعْضُهُمُ: الْعُمُّ الْقَدِيمُ، وَقَالَ بَعْضُهُمُ: الطَّوِيلُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارِ أَنَّهُ قَالَ: الْعُمُّ: الشَّبَابُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی جو پہلے کسی کی نہ تھی وہ اسی کی ہے اور «عِرْقٍ ظَالِمٍ» ”ظالم رگ والے“ کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“ پھر کہا: یہ حدیث مجھے اس آدمی نے بیان کی ہے جس نے بنی بیاضہ کے دو آدمیوں کو جھگڑتے دیکھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے کنویں کا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک کا کنواں تھا اور دوسرے نے اس سے باغ کو پانی لگایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے زمین والے کے لیے اس کی زمین کا فیصلہ کیا اور باغ والے کو حکم دیا کہ وہ اپنا باغ اٹھا لے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا، وہ کلہاڑے کے ساتھ درختوں کی جڑوں کو اکھاڑ رہا تھا حالانکہ وہ باغ تیار تھا۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: بعض نے کہا ہے: «الْعُمُّ» ”العُمّ“ نہ چھوٹا اور نہ بڑا لمبا اور بعض نے کہا ہے کہ «الْعُمُّ» کا مطلب قدیم اور بعض نے کہا ہے: لمبا اور بعض نے کہا ہے: جوان۔
حدیث نمبر: 11777
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصَّبْغِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فِي غَيْرِ حَقِّ مُسْلِمٍ فَهُوَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی کسی مسلمان کا حق کھائے بغیر تو وہ اسی کی ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 11778
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَاطَ عَلَى شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی چیز کا احاطہ کیا وہ اسی کی ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 11779
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ جَنُوبٍ بِنْتُ نُمَيْلَةَ، عَنْ أُمِّهَا سُوَيْدَةَ بِنْتِ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّهَا عَقِيلَةَ بِنْتِ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ، عَنْ أَبِيهَا أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَقَالَ: " مَنْ سَبَقَ إِلَى مَا لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ "، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ يَتَعَادَوْنَ يَتَخَاطَوْنَ.
حافظ ثناء اللہ
سمرہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس آیا، میں نے بیعت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی چیز کی طرف دوسرے سے پہلے سبقت لے گیا وہ اسی کی ہے۔“ پس لوگ خوشی خوشی نکلے اور ایک دوسرے سے تیز چلنے لگے۔