❮
❯
حدیث نمبر: 11770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ، وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ، كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ " زَادَ حُمَيْدٌ فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ، جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ، سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ، فَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي الْحَسَنِ الْعَاصِمِيِّ رِوَايَتَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ الْفَرَجِيِّ، عَنْ أَبِي ثَوْرٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " اغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ " قُلْتُ: فَالْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ فِي قَاطِعِ السِّدْرِ يَكُونُ مَحْمُولًا عَلَى مَا حَمَلَهُ عَلَيْهِ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِنْ صَحَّ طَرِيقُهُ، فَفِيهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَرُوِّينَا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ كَانَ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ، وَهُوَ أَحَدُ رُوَاةِ النَّهْيِ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النَّهْيُ خَاصًّا كَمَا قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ يَحْيَى الْمُزَنِيَّ رَحِمَهُ اللهُ سُئِلَ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: وَجْهُهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ هَجَمَ عَلَى قَطْعِ سِدْرٍ لِقَوْمٍ أَوْ لِيَتِيمٍ أَوْ لِمَنْ حَرَّمَ اللهُ أَنْ يُقْطَعَ عَلَيْهِ، فَتَحَامَلَ عَلَيْهِ بِقَطْعِهِ فَاسْتَحَقَّ مَا قَالَهُ، فَتَكُونَ الْمَسْأَلَةُ سَبَقَتِ السَّامِعَ، فَسَمِعَ الْجَوَابَ وَلَمْ يَسْمَعِ الْمَسْأَلَةَ، وَجَعَلَ نَظِيرَهُ حَدِيثَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ⦗٢٣٤⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ "، فَسَمِعَ الْجَوَابَ وَلَمْ يَسْمَعِ الْمَسْأَلَةَ، وَقَدْ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ "، وَاحْتَجَّ الْمُزَنِيُّ بِمَا احْتَجَّ بِهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ مِنْ إِجَازَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ الْمَيِّتُ بِالسِّدْرِ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يَجُزِ الِانْتِفَاعُ بِهِ، قَالَ: وَالْوَرَقُ مِنَ السِّدْرِ كَالْغُصْنِ، وَقَدْ سَوَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا حَرَّمَ قَطْعَهُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ بَيْنَ وَرَقِهِ وَبَيْنَ غَيْرِهِ، فَلَمَّا لَمْ أَرَ أَحَدًا يُمْنَعُ مِنْ وَرَقِ السِّدْرِ دَلَّ عَلَى جَوَازِ قَطْعِ السِّدْرِ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) حسان بن ابراہیم فرماتے ہیں: میں نے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے بیری کو کاٹنے کے بارے میں سوال کیا اور وہ عروہ رحمہ اللہ کے مکان سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا: ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھتے ہو؟ وہ عروہ رحمہ اللہ کی بیری کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ نے اپنی زمین سے کاٹا تھا اور کہا تھا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ہشام نے کہا: اے عراقی! یہ بدعت تو لے کر آیا ہے، حسان کہتے ہیں: میں نے کہا کہ بدعت تو تمہاری طرف سے ہے، میں نے اہل مکہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بیری کاٹنے والے پر لعنت کی ہے“۔ ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی جس نے کسی بیابان میں ایسی بیری بے مقصد اور ظلم سے، بغیر کسی حق کے کاٹی جس سے مسافر اور جانور سایہ لیتے ہوں۔
(ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو ثور رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے بیری کاٹنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی ﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”اس کو پانی کے ساتھ اور بیری کے ساتھ غسل دو“۔
(ج) میں نے کہا: بیری کاٹنے والے کے بارے میں جو حدیث روایت کی گئی ہے وہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی توجیہ پر محمول ہوگی، اگر اس کی سند صحیح ہو، کیونکہ اس میں وہ اختلاف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
(د) ہم نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی زمین سے اس کو کاٹ دیتے تھے، حالانکہ وہ نہی کے راویوں میں سے ایک ہیں، تو لگتا ہے کہ نہی خاص ہے جیسا کہ ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا، واللہ اعلم۔ اسماعیل بن یحییٰ مزنی رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے کسی قوم کی یا کسی یتیم کی یا ایسے شخص کی بیری کاٹنے پر ہاتھ ڈالا جس کی بیری کاٹنا اللہ نے اس پر حرام کیا ہے، اور اسے کاٹ کر اس پر زیادتی کی، تو وہ اس وعید کا مستحق ہوا جو آپ ﷺ نے فرمائی۔ پس اس پر ہی محمول ہوگا سننے والے نے جواب سن لیا اور سوال نہ سنا اور وہ اس حدیث کی طرح ہے جو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہے“۔ اس راوی نے بھی سوال نہ سنا اور جواب سن لیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، دست بدست“۔
(ر) اور مزنی رحمہ اللہ نے اسی سے دلیل پکڑی ہے جس سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ نبی ﷺ نے میت کو بیری سے غسل دینے کی اجازت دی ہے۔ اگر حرام تھی تو اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوتا۔ فرمایا: بیری کے پتے گویا کہ شاخیں ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے حرم کے درختوں کو کاٹنے کی حرمت کو برابر رکھا چاہے صرف پتے ہوں یا کوئی اور چیز۔ جب میں نے کسی کو پتوں سے روکتے نہیں دیکھا تو یہ بیری کے کاٹنے پر جواز فراہم کرتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11770
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداؤد 5241»