کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا أَعْطَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ، وَلَا تَظْلِمُوا، وَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: ”کسی انسان کے لیے اس کے بھائی کے مال سے کوئی چیز حلال نہیں ہے مگر جو وہ خوشی سے دے اور نہ تم ظلم کرو اور نہ میرے بعد کفر میں لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَارِثَةَ الضَّمْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ قَالَ: " وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ "، فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ ذَلِكَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي فَأَخَذْتُ مِنْهُ شَاةً فَاجْتَزَرْتُهَا فَعَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: " إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ فَلَا تَمَسَّهَا " قِيلَ: هِيَ أَرْضٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ، أَرْضٌ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن یثربی ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے خطبے میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”کسی کے لیے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں ہے مگر جو وہ خوشی سے دے۔“ جب اس (راوی) نے سنا تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنے چچا زاد کی بکریاں پاؤں اور میں ایک بکری پکڑ لوں اور اسے ذبح کر لوں تو مجھ پر کچھ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو دنبی کو مثلاً خبتِ جمیش میں کسی ویران زمین میں پائے اور تو چھری یا کوئی اوزار اٹھائے تو بھی اس کو نہ چھونا۔“ کہا گیا کہ وہ مکہ اور جار کے درمیان ایک ویران جگہ ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فِي حَجَّتِهِ، وَقَالَ فِيهَا: " أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَلْيَرُدَّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایام تشریق میں نبی کریم ﷺ کے خطبہ حج کی حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کے پاس کوئی چیز ہو وہ اسے لوٹا دے، جس کی امانت ہے۔ اے لوگو! کسی کے لیے اپنے بھائی کے مال سے کچھ بھی حلال نہیں مگر جو وہ خوشی سے دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُلَامٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ، فَجَاءَ يَوْمًا بِشَيْءٍ فَأَكَلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا أُحْسِنُ الْكِهَانَةَ، إِلَّا أَنِّي خَدَعْتُهُ، فَلَقِيَنِي فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ، فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ، فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهِ لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِي الْإِسْنَادِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا، وہ آپ کے لیے چیزیں لایا کرتا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی چیزوں کو کھا لیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ کوئی چیز لے کر آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کھا لیا۔ غلام نے ان سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تھا؟ وہ کہنے لگا: میں جاہلیت میں ایک انسان کی کہانت کیا کرتا تھا اور میں کہانت کو اچھا نہیں سمجھتا تھا اور میں دھوکا دیتا تھا۔ وہ آدمی مجھے ملا، اس نے مجھے یہ دیا جو آپ نے کھا لیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور قے کر دی جو بھی پیٹ میں تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ، قَالَ: فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ، قَالَ: فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الْأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ، فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً رَمَى بِهَا ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا "، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخِي وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ، وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، وَعَلَيَّ أَنْ أُرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلْأُسَارَى قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَخْشَى عَلَيْهِ الْفَسَادَ، وَصَاحِبُهَا كَانَ غَائِبًا، فَرَأَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ أَنْ يُطْعِمَهَا الْأُسَارَى، وَاللهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ يَضْمَنُ لِصَاحِبِهَا.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب رحمہ اللہ اپنے والد سے مزینہ کے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے فرمایا: قریش میں سے مسلمانوں کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا بنایا، اس نے آپ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت دی۔ (راوی) فرماتے ہیں: مجھے میرے باپ ساتھ لے گئے۔ ہم بیٹوں کی مجلس میں بیٹھ گئے، انہوں نے نہیں کھایا مگر جب رسول اللہ ﷺ نے کھایا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے لقمہ پکڑا تو اس کو پھینک دیا، پھر فرمایا: ”میں ایسے گوشت کا ذائقہ پاتا ہوں جو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے“۔ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میرا بھائی ہے اور میں لوگوں میں بڑی عزت والی ہوں، اس پر اگر اس کے ہاں کوئی اور بہتر ہوتا تو مجھے یہ سپرد نہ کرتا اور میرے اوپر ہے کہ میں اسے راضی کر لوں گی۔ آپ ﷺ نے کھانے سے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فساد کے ڈر کی وجہ سے تھا کہ اس کا مالک غائب تھا، پس مصلحت کے تحت آپ ﷺ نے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فساد کے ڈر کی وجہ سے تھا کہ اس کا مالک غائب تھا، پس مصلحت کے تحت آپ ﷺ نے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " أَنَّهُمْ كَانُوا ⦗١٦٢⦘ يَجْعَلُونَ فِي كُلِّ بَهِيمَةٍ أُصِيبَتْ مَا بَيْنَ قِيمَةِ الْبَهِيمَةِ صَحِيحَةِ الْعَيْنِ وَمُصَابَةِ الْعَيْنِ، وَكُلُّ مَا أُصِيبَ مِنَ الْبَهِيمَةِ فَعَلَى قَدْرِ ذَلِكَ " قَالَ عِيسَى بْنُ مِينَاءٍ: فَأَمَّا جِرَاحُ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ جِرَاحَ الْعَبْدِ تَجْرِي جِرَاحُهُ كُلُّهَا فِي قِيمَتِهِ يَوْمَ يُصَابُ كَمَا تَجْرِي جِرَاحُ الْحُرِّ فِي دِيَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو زناد رحمہ اللہ اپنے باپ رحمہ اللہ سے اور وہ فقہائے اہل مدینہ رحمہ اللہ علیہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ہر جاندار جس کو زخم لگا ہوتا تو صحیح اور زخمی میں قیمت کا تعین کرتے تھے۔ ہر زخمی جانور کو وہ اس طرح مقرر کرتے تھے۔ عیسیٰ بن حسینا رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زخمی غلام (یعنی اس کے زخم کو) اس کی قیمت میں اس دن شمار کرتے تھے جس دن وہ زخمی ہو، جیسے آزاد کے زخم کو دیت میں جاری کیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا " وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ بِهِ إِلَى شُرَيْحٍ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِ بِذَلِكَ، ورَوَاهُ مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جانور کی آنکھ کی چٹی اس کی چوتھائی قیمت ہے۔