السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
حدیث نمبر: 11530
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا " وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ بِهِ إِلَى شُرَيْحٍ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِ بِذَلِكَ، ورَوَاهُ مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جانور کی آنکھ کی چٹی اس کی چوتھائی قیمت ہے۔
یہ (سند) منقطع ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات شریح کو لکھی، یہ بھی منقطع ہے۔ اور اسے جابر جعفی نے، جو ضعیف ہے، شعبی سے، انہوں نے شریح سے روایت کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ لکھا، اور مجالد نے شعبی سے روایت کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شریح کو لکھا، اور یہ منقطع ہے۔