السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ، قَالَ: فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ، قَالَ: فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الْأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ، فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً رَمَى بِهَا ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا "، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخِي وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ، وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، وَعَلَيَّ أَنْ أُرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلْأُسَارَى قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَخْشَى عَلَيْهِ الْفَسَادَ، وَصَاحِبُهَا كَانَ غَائِبًا، فَرَأَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ أَنْ يُطْعِمَهَا الْأُسَارَى، وَاللهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ يَضْمَنُ لِصَاحِبِهَا.عاصم بن کلیب رحمہ اللہ اپنے والد سے مزینہ کے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے فرمایا: قریش میں سے مسلمانوں کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا بنایا، اس نے آپ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت دی۔ (راوی) فرماتے ہیں: مجھے میرے باپ ساتھ لے گئے۔ ہم بیٹوں کی مجلس میں بیٹھ گئے، انہوں نے نہیں کھایا مگر جب رسول اللہ ﷺ نے کھایا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے لقمہ پکڑا تو اس کو پھینک دیا، پھر فرمایا: ”میں ایسے گوشت کا ذائقہ پاتا ہوں جو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے“۔ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میرا بھائی ہے اور میں لوگوں میں بڑی عزت والی ہوں، اس پر اگر اس کے ہاں کوئی اور بہتر ہوتا تو مجھے یہ سپرد نہ کرتا اور میرے اوپر ہے کہ میں اسے راضی کر لوں گی۔ آپ ﷺ نے کھانے سے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فساد کے ڈر کی وجہ سے تھا کہ اس کا مالک غائب تھا، پس مصلحت کے تحت آپ ﷺ نے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا۔