السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
حدیث نمبر: 11525
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَارِثَةَ الضَّمْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ قَالَ: " وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ "، فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ ذَلِكَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي فَأَخَذْتُ مِنْهُ شَاةً فَاجْتَزَرْتُهَا فَعَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: " إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ فَلَا تَمَسَّهَا " قِيلَ: هِيَ أَرْضٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ، أَرْضٌ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن یثربی ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے خطبے میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”کسی کے لیے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں ہے مگر جو وہ خوشی سے دے۔“ جب اس (راوی) نے سنا تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنے چچا زاد کی بکریاں پاؤں اور میں ایک بکری پکڑ لوں اور اسے ذبح کر لوں تو مجھ پر کچھ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو دنبی کو مثلاً خبتِ جمیش میں کسی ویران زمین میں پائے اور تو چھری یا کوئی اوزار اٹھائے تو بھی اس کو نہ چھونا۔“ کہا گیا کہ وہ مکہ اور جار کے درمیان ایک ویران جگہ ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔